Sports
این سی سی آئی اے کی قومی کرکٹرز سے ڈریسنگ روم لیکس پر تفتیش
قومی کرکٹ ٹیم کے دو اہم کھلاڑیوں نے انگلینڈ کے خلاف سیریز کے دوران ڈریسنگ روم کی معلومات لیک ہونے کے الزام میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے سامنے پیش ہو کر بیان ریکارڈ کروایا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کی شکایت پر کی جانے والی اس تفتیش میں کھلاڑیوں سے طویل عرصے تک پوچھ گچھ کی گئی اور ان کے موبائل فونز کے فرانزک کا جائزہ بھی لیا جا رہا ہے۔
لاہور میں ایک غیر معمولی اور انتہائی اہم پیش رفت کے دوران قومی کرکٹ ٹیم کے دو کھلاڑیوں نے ڈریسنگ روم کی مبینہ لیکس کے معاملے پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے سامنے حاضری دی۔ انگلینڈ کے خلاف حالیہ سیریز کے دوران پیش آنے والے اس واقعے کی تحقیقات کے سلسلے میں سائبر کرائم ایجنسی نے جمعرات کے روز امام الحق اور محمد رضوان سے تفتیش کی۔ یہ کارروائی پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے دائر کی جانے والی ایک باضابطہ شکایت کی روشنی میں عمل میں لائی گئی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ محسن نقوی اس وقت نہ صرف پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ہیں بلکہ وہ وزارتِ داخلہ کا قلمدان بھی رکھتے ہیں جس کے تحت این سی سی آئی اے کا ادارہ کام کرتا ہے۔ چند روز قبل پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے یہ اعلان کیا گیا تھا کہ ٹیم کی نظم و ضبط اور رویے کے حوالے سے میڈیا پر آنے والی رپورٹس پر اندرونی انکوائری شروع کر دی گئی ہے جس کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ امام الحق اور محمد رضوان ان سات کھلاڑیوں میں شامل تھے جنہیں انگلینڈ کے خلاف پہلے دو ٹیسٹ میچوں میں ناقص کارکردگی کے بعد وطن واپس بھیج دیا گیا تھا۔ جب اس معاملے پر بورڈ کے ترجمان سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے انکوائری کی تصدیق تو کی لیکن جاری تحقیقات پر مزید تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔ وزیر داخلہ اور چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کی طرف سے بھی اس حوالے سے کوئی باضابطہ موقف سامنے نہیں آیا۔ تاہم ذرائع کے مطابق دونوں کھلاڑیوں کو باقاعدہ نوٹس جاری کیے گئے تھے جن کے بعد وہ لاہور میں واقع این سی سی آئی اے کے دفتر پہنچے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ تفتیشی ٹیم نے دونوں کرکٹرز سے لگ بھگ چار گھنٹے تک پوچھ گچھ کی۔ اس دوران کھلاڑیوں نے مؤقف اپنایا کہ ان کے موبائل فونز پہلے ہی ایجنسی کے قبضے میں ہیں اور ان کی فارنزک جانچ پڑتال کی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ دونوں کھلاڑیوں نے تفتیشی ایجنسی کو تحریری جواب جمع کرانے کے لیے مزید مہلت کی درخواست بھی کی ہے۔ ذرائع کے مطابق پی سی بی نے اس سے پہلے ہی دونوں کرکٹرز کے موبائل فونز این سی سی آئی اے کے حوالے کر دیے تھے تاکہ تحقیقات کو شفاف طریقے سے آگے بڑھایا جا سکے۔ واضح رہے کہ ماضی میں بھی پاکستانی کرکٹرز کو مختلف تنازعات کا سامنا رہا ہے تاہم یہ پہلا موقع ہے کہ کسی سیریز کے دوران ہی کسی قانون نافذ کرنے والے ادارے میں باضابطہ شکایت درج کرائی گئی ہو۔ ماضی میں انکوائریز کے فیصلے عام طور پر سابق کرکٹرز پر مشتمل کمیٹیوں کے ذریعے کیے جاتے تھے لیکن موجودہ صورتحال نے ملکی کھیلوں کی تاریخ میں ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے جہاں سائبر کرائم کے قوانین کے تحت کرکٹ کے معاملات کو جانچا جا رہا ہے۔