LIVE
Loading Breaking News...

صائمہ واجد کا ڈبلیو ایچ او کے عہدے سے استعفا

News Image
بنگلہ دیش کی معزول وزیر اعظم شیخ حسینہ کی صاحبزادی اور ڈبلیو ایچ او کی جنوب مشرقی ایشیا کی سربراہ صائمہ واجد نے استعفا دے دیا ہے۔ ان کے خلاف مالیاتی فراڈ اور جعلی اسناد کے الزامات پر تحقیقات جاری تھیں۔
عالمی ادارہ صحت (WHO) کے جنوب مشرقی ایشیا کی سربراہ اور بنگلہ دیش کی معزول وزیر اعظم شیخ حسینہ کی صاحبزادی صائمہ واجد نے اپنے عہدے سے استعفا دے دیا ہے۔ صائمہ واجد نے ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل تیدروس ادھانوم گیبریسوس کو لکھے گئے اپنے استعفے میں کہا ہے کہ انہیں اپنے فرائض منصبی کی انجام دہی سے روکا گیا جس کے بعد انہوں نے ادارے کی قیادت پر سے اعتماد کھو دیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ طویل عرصے سے تنخواہ نہ ملنے کی وجہ سے ان کی مالی حالت ناگفتہ بہ ہو چکی تھی۔ صائمہ واجد کے استعفے کا یہ فیصلہ اقوام متحدہ کے ادارے اور بنگلہ دیشی حکام کی جانب سے ان کے خلاف مالیاتی فراڈ اور بدعنوانی کی تحقیقات کے بعد سامنے آیا ہے۔ شیخ حسینہ کے اقتدار کے خاتمے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کا اثر اب ان کے اہل خانہ تک پہنچ چکا ہے جبکہ ان کے کئی حلیف بھی مجرمانہ مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ عالمی ادارے کی جانب سے جاری کردہ بیانات کے مطابق صائمہ واجد پر چین کے دورے کے دوران مالیاتی فراڈ کرنے، اپنی تعلیمی اسناد کو غلط انداز میں پیش کرنے اور بنگلہ دیش میں غیر قانونی طریقے سے اراضی حاصل کرنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ ڈبلیو ایچ او کی ایک کمیٹی نے صائمہ واجد کی برطرفی کی سفارش بھی کی تھی جبکہ اس سے قبل انہیں غیر تنخواہ یافتہ انتظامی رخصت پر بھی بھیج دیا گیا تھا۔ دوسری جانب صائمہ واجد نے ان تمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے جو اراضی حاصل کی تھی وہ قانون کے مطابق تھی اور وہ اس کی حقدار تھیں۔ انہوں نے مؤقف اپنایا کہ وہ خطے کے ممالک کی خدمت کے جذبے کے ساتھ اپنے عہدے پر فائز ہوئی تھیں لیکن موجودہ حالات میں ان کے لیے کام کرنا ناممکن ہو گیا تھا۔ عالمی ادارہ صحت کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ اب ادارے کی ایگزیکٹو بورڈ اور کمیٹی صائمہ واجد کے استعفے پر غور کرے گی، جبکہ ڈاکٹر نلیش بدھا نئے علاقائی سربراہ کے تقرر تک بطور انچارج اپنے فرائض انجام دیتے رہیں گے۔