LIVE
Loading Breaking News...

ڈونلڈ ٹرمپ کا حوثیوں پر حملے کا سعودی مطالبہ مسترد کرنے کا فیصلہ

News Image
رپورٹس کے مطابق سعودی ولی عہد نے بحیرہ احمر کے خطرات کے پیش نظر ڈونلڈ ٹرمپ پر زور دیا تھا کہ وہ حوثیوں کے خلاف براہ راست امریکی حملے کریں۔ تاہم، نومنتخب امریکی صدر نے اس مطالبے کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی ولی عہد کی جانب سے یمن کے حوثی باغیوں کے خلاف براہ راست امریکی فوجی حملے کرنے کی کال کو مسترد کر دیا۔ اطلاعات کے مطابق سعودی قیادت چاہتی تھی کہ خطے میں بحیرہ احمر کی سکیورٹی اور تجارتی راستوں کو لاحق خطرات کے پیش نظر امریکہ حوثی اہداف پر بھرپور فضائی اور فوجی کارروائی کرے تاکہ ایران کے اس اتحادی کو روکا جا سکے۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اس عسکری دباؤ کو قبول کرنے سے گریز کیا اور اس معاملے پر محتاط رویہ اختیار کیا۔ حالیہ دنوں میں امریکہ کی جانب سے مشرق وسطیٰ بالخصوص خلیجی خطے اور آبنائے ہرمز میں اپنی حکمت عملی میں تبدیلیاں لائی گئی ہیں تاکہ ایرانی اثر و رسوخ کو تو محدود کیا جا سکے لیکن کسی بڑی اور مہنگی جنگ میں براہ راست الجھنے سے بچا جا سکے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق واشنگٹن اب خطے کے تنازعات میں براہ راست فوج کشی کی بجائے انٹیلی جنس اور ٹارگٹنگ سپورٹ فراہم کرنے پر زیادہ توجہ دے رہا ہے۔ سعودی عرب کی جانب سے حوثیوں کے خلاف مہم میں امریکی مدد کا دائرہ کار تو وسیع کیا گیا ہے لیکن براہ راست امریکی جنگی کارروائیوں سے گریز کا یہ فیصلہ خطے کی بدلتی ہوئی سیاسی اور عسکری حرکیات کی عکاسی کرتا ہے۔