World
پاکستان کا ایران امریکہ کشیدگی پر امن ساز کردار اور سفارتی کوششیں
پاکستان نے مشرق وسطیٰ کی موجودہ کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے امریکہ اور ایران پر زور دیا ہے کہ وہ تمام تنازعات کے پرامن حل کے لیے فوری طور پر مذاکرات کی میز پر واپس آئیں۔ پاکستانی حکام اور اقوام متحدہ میں نمائندگان خطے میں امن کے قیام کے لیے سفارتی کوششوں کو تیز کرنے کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور امریکہ و ایران کے مابین تعلقات میں جاری تناؤ کے تناظر میں، پاکستان کا 'امن ساز' (Peacemaker) کا بیانیہ اس وقت عالمی سطح پر ایک اہم بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ پاکستانی سفارتی حلقے اور رہنما مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ واشنگتن اور تہران کے درمیان موجودہ بداعتمادی کو ختم کرنے کے لیے بات چیت کا راستہ ہی واحد قابل عمل حل ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی فورمز پر بھی پاکستان نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ خطے میں جنگ کی کیفیت انتہائی تشویشناک ہے اور اس کے اثرات پوری دنیا بالخصوص خطے کی معیشت پر پڑ سکتے ہیں۔ حالیہ سفارتی سرگرمیوں کے دوران، پاکستانی حکام نے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور تنازعات کو جنگ کی بجائے میز پر حل کرنے کو ترجیح دیں۔ پاکستانی نمائندگان کا ماننا ہے کہ دونوں ممالک کے مابین بہتر فہم اور رابطے جلد بحال ہو سکتے ہیں اگر عالمی برادری تعمیری کردار ادا کرے۔ تہران کے ساتھ اعلیٰ سطحی ملاقاتوں اور روابط میں بھی عسکری و سیاسی قیادت نے اس مؤقف کو دہرایا ہے کہ علاقائی استحکام کے لیے پاکستان ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اگرچہ پاکستان کی جانب سے ثالثی اور مذاکرات کی بحالی کی کوششیں قابل تعریف ہیں، تاہم امریکہ اور ایران کے درمیان بنیادی نوعیت کے اختلافات اور دیرینہ بداعتمادی کی وجہ سے اس 'امن ساز' بیانیے کو عملی جامہ پہنانے میں کئی سفارتی چیلنجز کا سامنا ہے۔ اس کے باوجود، پاکستان کا یہ مستقل مؤقف رہا ہے کہ خطے میں مزید کسی بھی بڑے تصادم کو روکنے کے لیے سفارت کاری اور بات چیت کے دروازے ہمیشہ کھلے رہنے چاہئیں تاکہ ایک بڑے انسانی و اقتصادی بحران سے بچا جا سکے۔