LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور پی ڈی ایل پر کاروباری برادری کا ردعمل

News Image
پاکستان میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) نے حکومت سے پیٹرولیم لیوی (پی ڈی ایل) میں فوری ریلیف دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ حکومت کی جانب سے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد کاروباری طبقے میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔
پاکستان میں کاروباری برادری اور تجارتی تنظیموں نے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی (پی ڈی ایل) اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی تبدیلیوں کا ازسرنو جائزہ لے۔ حالیہ دنوں میں حکومت کی جانب سے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں بالترتیب 3.05 روپے اور 5.37 روپے فی لیٹر اضافے کا اعلان کیا گیا ہے، جس سے ملک میں مہنگائی کی ایک نئی لہر دوڑ گئی ہے اور عام شہریوں کے ساتھ ساتھ تاجروں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) سمیت ملک کے اہم کاروباری حلقوں نے خبردار کیا ہے کہ ایندھن کی بلند قیمتیں پہلے ہی ملکی اور بین الاقوامی سطح پر دباؤ کا شکار برآمدی شعبے کی کمر توڑ رہی ہیں۔ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ اور ملکی سطح پر عائد بھاری ٹیکسوں اور لیویز کے باعث پاکستانی برآمد کنندگان کے لیے عالمی منڈی میں مسابقت برقرار رکھنا انتہائی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ ایندھن کی قیمتوں میں اس طرح کے صدمات سے نہ صرف ٹرانسپورٹیشن کے اخراجات بڑھتے ہیں بلکہ روزمرہ استعمال کی اشیاء اور صنعتی پیداواری لاگت میں بھی ہوشربا اضافہ ہوتا ہے، جس کا براہ راست اثر معیشت اور عام آدمی پر پڑتا ہے۔ کاروباری رہنماؤں نے حکومت پر زور دیا ہے کہ معاشی بحالی اور برآمدات کے فروغ کے لیے فوری طور پر پی ڈی ایل میں کمی کی جائے اور پٹرولیم قیمتوں کے تعین کے میکانزم کو زیادہ شفاف اور عوام دوست بنایا جائے تاکہ معیشت کے پہیے کو رواں رکھا جا سکے اور مہنگائی کے مارے عوام کو کچھ ریلیف مل سکے۔