World
ہانگ کانگ سمٹ: بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کے عزم کا اعادہ
ہانگ کانگ میں منعقدہ گیارہویں بیلٹ اینڈ روڈ سمٹ کے دوران پاک چین تعلقات اور معاشی تعاون پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ اس موقع پر دونوں فریقین نے باہمی اقتصادی مفادات کے نئے شعبوں کی تلاش پر اتفاق کیا۔
ہانگ کانگ میں منعقد ہونے والے گیارہویں بیلٹ اینڈ روڈ سمٹ (Belt and Road Summit) کے دوران پاکستان اور ہانگ کانگ کے درمیان معاشی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا ہے۔ اس اہم بین الاقوامی سربراہی اجلاس میں خطے کے مختلف ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی جہاں اقتصادی تعاون، بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور باہمی تجارت کے فروغ پر تفصیلی غور کیا گیا۔ سمٹ کے دوران پاکستانی وزیر نے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو (BRI) کے ساتھ پاکستان کی غیر متزلزل وابستگی پر روشنی ڈالی اور اس بات پر زور دیا کہ یہ منصوبہ خطے کی پائیدار ترقی کے لیے سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ دونوں فریقین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ آنے والے دنوں میں باہمی اقتصادی دلچسپی کے نئے شعبوں کی نشاندہی کریں گے تاکہ دو طرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کو نئے افق تک پہنچایا جا سکے۔ اس کے علاوہ اجلاس میں قطر سمیت دیگر ممالک کی شرکت بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو عالمی سطح پر معاشی انضمام اور رابطے کا ایک موثر ذریعہ بن چکا ہے۔ کانفرنس کے دوران مقررین کا کہنا تھا کہ ہانگ کانگ کو چاہیے کہ وہ خدمات کی تجارت (services trade) کو اپ گریڈ کرنے میں قائدانہ کردار ادا کرے تاکہ بدلتے ہوئے عالمی معاشی منظرنامے کے تحت تمام شراکت داروں کو زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل ہوں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اس سمٹ کے انعقاد سے نہ صرف علاقائی رابطے مضبوط ہوں گے بلکہ پاکستان اور دیگر شریک ممالک کے لیے معاشی بحالی اور ترقی کے نئے راہیں بھی کھلیں گے۔ اجلاس کے اختتام پر تمام شریک ممالک نے باہمی تعاون کے فروغ اور اقتصادی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔