Business
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بڑی مندی، کے ایس ای 100 انڈیکس میں گراوٹ
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جاری پینک سیلنگ کے باعث مارکیٹ میں شدید مندی کا رجحان دیکھا گیا ہے۔ مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال، تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور شرح سود میں اضافے کے خدشات کی وجہ سے سرمایہ کاروں میں بے یقینی پائی جاتی ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں کاروباری ہفتے کے دوران شدید مندی کا رجحان دیکھنے میں آیا جہاں پینک سیلنگ کے باعث کے ایس ای 100 انڈیکس 169,000 پوائنٹس کی اہم حد سے نیچے گر گیا۔ مارکیٹ کے آغاز سے ہی فروخت کا دباؤ غالب رہا اور سرمایہ کاروں نے حصص کی بڑے پیمانے پر فروخت جاری رکھی، جس کے نتیجے میں انڈیکس میں سینکڑوں پوائنٹس کی بڑی کمی ریکارڈ کی گئی۔ معاشی ماہرین کے مطابق اس گراوٹ کی بنیادی وجوہات میں عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، شرح سود میں اضافے کے مستقل خدشات اور خطے بالخصوص مشرق وسطیٰ میں جاری جنگی صورتحال کے اثرات شامل ہیں۔
کاروباری سیشن کے دوران مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے حصص میں مسلسل کمی دیکھی گئی جس کی وجہ سے سرمایہ کاروں کو شدید مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے بین الاقوامی سطح پر سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متزلزل کر دیا ہے، جس کے اثرات براہ راست پاکستانی حصص بازار پر بھی پڑ رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ملک میں مہنگائی کی شرح اور مانیٹری پالیسی سے متعلق غیر یقینی صورتحال نے بھی سرمایہ کاروں کو محتاط رویہ اپنانے پر مجبور کر دیا ہے، جس کے باعث مارکیٹ میں خریداری کا رجحان ماند پڑ گیا ہے۔
اس صورتحال نے کاروباری حلقوں اور سرمایہ کاروں میں گہری تشویش پیدا کر دی ہے۔ ماہرینِ معاشیات کا کہنا ہے کہ جب تک عالمی سطح پر جغرافیائی سیاسی کشیدگی میں کمی نہیں آتی اور تیل کی قیمتیں مستحکم نہیں ہوتیں، اس وقت تک مقامی مارکیٹ میں بھی اتار چڑھاو کا سلسلہ جاری رہنے کا خدشہ ہے۔ کارپوریٹ سیکٹر اور مالیاتی اداروں کے نمائندے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ معیشت کے استحکام اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات اٹھائیں تاکہ حصص بازار کو مزید بڑی گراوٹ سے بچایا جا سکے۔