World
بحر اوقیانوس کا طوفان سیزن اور ایل نینو کے اثرات
بحرِ اوقیانوس میں سمندری طوفانوں کا سیزن اپنی عروج پر پہنچنے کے باوجود اب تک کوئی طوفان تشکیل نہیں پایا ہے۔ مضبوط ایل نینو کے اثرات کی وجہ سے طوفانی سرگرمیاں انتہائی نچلی سطح پر ریکارڈ کی جا رہی ہیں۔
بحرِ اوقیانوس میں سمندری طوفانوں کا رواں سالانہ سیزن اس وقت اپنے موسمی عروج پر پہنچ چکا ہے، تاہم ماہرینِ موسمیات کے مطابق اس بار ایک انتہائی حیران کن اور غیر معمولی صورتحال کا سامنا ہے۔ دنیا بھر کے موسمیاتی اداروں کی رپورٹس سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس سال اب تک بحرِ اوقیانوس میں کوئی بھی بڑا سمندری طوفان تشکیل نہیں پا سکا ہے، جس نے ماضی کے تمام ریکارڈز کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
اس انہونی اور پرسکون صورتحال کے پیچھے سب سے بڑی وجہ طاقتور 'ایل نینو' (El Niño) کا رجحان ہے۔ سائنسی تجزیوں کے مطابق، اس بار ایل نینو کے اثرات اتنے شدید اور تاریخی ہیں کہ انہوں نے بحرِ اوقیانوس کے خطے میں سمندری طوفانوں کی پیداوار کے لیے درکار سازگار ماحول کو بڑی حد تک متاثر اور محدود کر دیا ہے۔ عام طور پر اس سیزن میں شدید ہوائیں اور طوفانی ہلچل دیکھنے میں آتی ہے، لیکن اس بار ماحول کی ناموافق کیمسٹری کی وجہ سے سمندر میں گہرے دباؤ کے وہ نظام نہیں بن پائے جو طوفانوں کی شروعات کا باعث بنتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ سیزن کا ایک بڑا حصہ ابھی باقی ہے اور موسمیاتی حالات تیزی سے تبدیل ہو سکتے ہیں، لیکن اب تک کی یہ خاموشی یقیناً سائنسی لحاظ سے ایک منفرد واقعہ ہے۔ دنیا بھر کے موسمیاتی محکمے اس پورے عمل پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ ایل نینو کے یہ طویل المدتی اثرات خطے کے مستقبل کے موسم پر کیا مزید اثرات مرتب کریں گے۔