LIVE
Loading Breaking News...

ریپبلکن پارٹی کا مستقبل: ٹرمپ کے بعد قیادت پر سوالات

News Image
ریپبلکن کنونشن میں ڈونلڈ ٹرمپ کا مکمل غلبہ نظر آیا تاہم پارٹی کے اندرونی حلقوں میں خاموشی سے یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ ٹرمپ کے بعد پارٹی کی قیادت کون سنبھالے گا۔ بی بی سی کے واشنگٹن نامہ نگار کے مطابق اس کنونشن سے یہ حقیقت واضح ہو گئی ہے کہ ٹرمپ کا سیاسی دور اپنے آخری باب کی طرف بڑھ رہا ہے۔
واشنگٹن سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق حالیہ ریپبلکن کنونشن نے ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ پارٹی پر ڈونلڈ ٹرمپ کا اثر و رسوخ بدستور برقرار ہے اور وہ سیاسی میدان میں پوری طرح چھائے ہوئے ہیں۔ کنونشن کے دوران ہونے والے اجتماعات اور تقاریر سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اس وقت پارٹی کی باگ ڈور اور اس کا بیانیہ مکمل طور پر ٹرمپ کے گرد گھومتا ہے۔ مبصرین کے نزدیک ان کا یہ غلبہ فی الحال چیلنج تو نہیں کیا جا رہا لیکن اندر خانے اس حوالے سے گہری سوچ بچار شروع ہو چکی ہے۔ بی بی سی کے واشنگٹن نامہ نگار ڈینیل بش کے مطابق یہ کنونشن اس بات کی واضح یاد دہانی بھی تھا کہ ریپبلکن پارٹی میں ٹرمپ کا موجودہ سیاسی دور اب اپنے آخری باب کی طرف گامزن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پارٹی کے اندر کچھ حلقوں اور رہنماؤں کی طرف سے انتہائی خاموشی سے یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ جب ٹرمپ کا دور ختم ہو گا تو پارٹی کی قیادت کون سنبھالے گا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ریپبلکن پارٹی کی سیاست کو ایک نیا رخ دیا ہے اور ان کے بعد کے دور میں قیادت کا خلا پر کرنا کسی بھی آنے والے رہنما کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔ پارٹی کے اندر موجود قدامت پسند اور نئے حامی اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ آیا آئندہ انتخابات میں ٹرمپ کے فلسبے کو ہی آگے بڑھایا جائے گا یا پھر پارٹی کسی نئے چہرے کی تلاش کرے گی۔ اس وقت اگرچہ سب کی توجہ موجودہ سیاسی منظرنامے اور ٹرمپ کی مہم پر مرکوز ہے، لیکن پس منظر میں ہونے والی یہ سرگوشیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ریپبلکن رہنما مستقبل کے چیلنجز سے بخوبی آگاہ ہیں اور آنے والے وقت کے لیے سیاسی حکمت عملی پر غور شروع کر چکے ہیں۔