World
نائن الیون حملے اور چارلس وولف کی دردناک یادیں
نائن الیون کے حملوں کو ایک چوتھائی صدی گزرنے کے بعد چارلس وولف نے اپنی اہلیہ کی آخری یادوں کو تازہ کیا ہے۔ اس المناک دن اغوا شدہ طیارے کو اپنے گھر کے اوپر سے گزرتے دیکھنے کے چند لمحوں بعد ان کی اہلیہ ہلاک ہو گئی تھیں۔
امریکہ میں ہونے والے تباہ کن نائن الیون کے دہشت گردانہ حملوں کو اب ایک چوتھائی صدی کا طویل عرصہ بیت چکا ہے، لیکن ان تلخ اور ہولناک یادوں کے اثرات آج بھی متاثرہ خاندانوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔ ایسے ہی ایک متاثرہ فرد چارلس وولف ہیں جنہوں نے اس المناک دن اپنے گھر کے اوپر سے ایک اغوا شدہ طیارے کو گزرتے ہوئے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ انہیں اس بات کا ذرا برابر بھی اندازہ نہیں تھا کہ چند ہی لمحوں بعد اس وحشیانہ حملے کی زد میں آ کر ان کی پیاری اہلیہ ہمیشہ کے لیے اس دنیا سے رخصت ہو جائیں گی۔ نائن الیون کے اس سیاہ دن نے دنیا بھر کی تاریخ کا دھارا بدل کر رکھ دیا تھا اور نیویارک سمیت پورے امریکہ میں کہرام مچ گیا تھا۔ چارلس وولف جیسے ہزاروں افراد کے لیے وہ دن کسی قیامت سے کم نہیں تھا، جب ان کے عزیز و اقارب پل بھر میں ان سے ہمیشہ کے لیے جدا ہو گئے۔ اب اتنے سال گزرنے کے بعد بھی جب وہ لمحات یاد آتے ہیں تو انسانیت کا دل دہل جاتا ہے۔ پچیس سال کا طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود چارلس وولف اور ان جیسے دیگر متاثرین کے لیے وقت گویا اسی منحوس دن پر تھم گیا ہے۔ وہ آج بھی اپنی اہلیہ کی آخری یادوں کو سینے سے لگائے اس سانحے کو یاد کرتے ہیں جس نے نہ صرف ان کی ذاتی زندگی کو تباہ کیا بلکہ پوری دنیا کے امن کو بھی خطرے میں ڈال دیا۔ تاریخ کے اس سیاہ باب کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا اور یہ دن ہمیشہ دنیا بھر میں دہشت گردی کے خلاف اتحاد اور متاثرین سے اظہارِ یکجہتی کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔