World
9/11 کی یادگار: مسلم پولیس اہلکار کے بھائی کا بیان
نواں ستمبر کے واقعے میں ہلاک ہونے والے مسلم پولیس اہلکار کے بھائی نے ظہر ممدانی کو تقریبات میں شرکت سے روکنے کی مخالفت کرنے والوں پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس سانحے میں ہر مذہب اور پس منظر کے افراد متاثر ہوئے تھے۔
نواں ستمبر دو ہزار ایک کے ہولناک دہشت گردانہ حملوں میں جان گنوانے والے ایک مسلم پولیس اہلکار کے بھائی نے ان حلقوں پر گہری مایوسی کا اظہار کیا ہے جو نیویارک کے میئر کے امیدوار یا اہم شخصیت ظہر ممدانی کے اس تقریب میں شرکت کرنے پر اعتراض اٹھا رہے ہیں۔ ذیشان حمدانی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سانحے نے کسی مذہب یا نسل کی تفریق کے بغیر تمام امریکی شہریوں کو غم زدہ کیا تھا اور اس یادگار تقریب میں شرکت پر کسی قسم کی رکاوٹ یا تعصب کا مظاہرہ کرنا انتہائی افسوسناک ہے۔ ذیشان کے بھائی نے اس روز اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران اپنی جان قربان کی تھی، جس کی وجہ سے اس خاندان کا اس قومی سانحے کے ساتھ ایک گہرا اور دردناک رشتہ جڑا ہوا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ ایسے مواقع پر سیاست چمکانے یا کسی مخصوص پس منظر سے تعلق رکھنے والے شخص کو الگ تھلگ کرنے کی کوششیں نہ صرف شہریت کی روح کے منافی ہیں بلکہ ان تمام افراد کی قربانیوں کی بھی توہین ہیں جنہوں نے اس دن اپنی زندگیاں گنوائیں۔ حالیہ دنوں میں کچھ حلقوں کی جانب سے یہ آوازیں اٹھائی جا رہی تھیں کہ ظہر ممدانی، جو کہ ایک مسلمان ہیں، کو اس یادگاری تقریب سے دور رہنا چاہیے۔ ذیشان حمدانی کا یہ بیان اس بحث میں ایک اہم موڑ لے کر آیا ہے، جہاں وہ اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ سانحہ نائن الیون کے متاثرین کے لواحقین اور اس دلخراش واقعے میں جان دینے والوں کے اہل خانہ اس قسم کے تعصبات سے بالاتر ہو کر اتحاد کی بات کرتے ہیں۔ معاشرتی ہم آہنگی اور یکجہتی کے حامیوں نے بھی اس بیان کا خیرمقدم کیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ اس قسم کے بیانات سے نفرت انگیز رویوں کی حوصلہ شکنی ہوگی اور تمام شہریوں کو یکساں احترام مل سکے گا۔