LIVE
Loading Breaking News...

نائن الیون کا معجزاتی بچاؤ: پول بیریف کی دردناک یادیں

News Image
نائن الیون کے خوفناک حملے کے دوران ٹوین ٹاورز کے ملبے تلے دب جانے والے فوٹو جرنلسٹ پول بیریف نے اپنی زندگی کی حفاظت کو معجزہ قرار دیا ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ اس حادثے کے دوران زہریلی گرد اور ملبے تلے دبنے کی وجہ سے ان کی متوقع زندگی کم ہو چکی ہے۔
گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کے تاریک دن نیویارک میں رونما ہونے والے دہشت گردی کے خوفناک واقعات کو دنیا کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔ ان حملوں کے دوران جہاں ہزاروں افراد لقمہ اجل بنے، وہیں چند خوش نصیب ایسے بھی تھے جو موت کے منہ سے معجزانہ طور پر واپس لوٹنے میں کامیاب رہے۔ ایسے ہی افراد میں معروف برطانوی فلمساز اور فوٹو جرنلسٹ پول بیریف بھی شامل ہیں، جو ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے ٹوین ٹاورز کے بالکل قریب موجود تھے اور عمارتیں گرنے کے بعد ملبے کے نیچے دب گئے تھے۔ پول بیریف کے مطابق، اس ہولناک دن کا تجربہ ان کی پوری زندگی پر اثر انداز ہوا ہے اور وہ آج بھی اس المناک سانحے کی یادوں سے باہر نہیں نکل پائے ہیں۔ حملے کے روز جب پہلا طیارہ ٹاور سے ٹکرایا تو پول بیریف کوریج کے سلسلے میں موقع پر ہی موجود تھے۔ انہوں نے بتایا کہ جیسے ہی دوسرا ٹاور منہدم ہوا، ایک ایسا طوفان برپا ہوا جس نے ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ وہ عمارت کے ملبے کے نیچے کئی فٹ گہرائی میں دب گئے تھے اور انہیں سانس لینے میں شدید دشواری کا سامنا تھا۔ اس لمحے انہیں یقین ہو گیا تھا کہ ان کی زندگی کا سفر یہیں تمام ہو چکا ہے، لیکن خوش قسمتی سے ریسکیو ٹیموں نے بر وقت کارروائی کرتے ہوئے انہیں زندہ باہر نکال لیا۔ اس معجزاتی بچاؤ نے انہیں نئی زندگی تو بخشی، مگر اس کے طویل المدتی اثرات نے ان کی صحت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ حالیہ انٹرویوز میں پول بیریف نے انکشاف کیا ہے کہ اس حادثے کے دوران انہوں نے جو زہریلا دھواں اور سیمنٹ کا غبار سانس کے ذریعے اندر اتارا تھا، اس نے ان کے پھیپھڑوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق اس واقعے کے نتیجے میں ان کی زندگی کی متوقع مدت کم ہو چکی ہے۔ اس کے باوجود، پول بیریف کا عزم قابل دید ہے اور وہ خود کو دنیا کا سب سے خوش نصیب انسان تصور کرتے ہیں کیونکہ وہ اس ہولناک تباہی کے مرکز سے زندہ سلامت اپنے گھر واپس لوٹنے میں کامیاب رہے تھے۔ یہ کہانی انسانی استقامت اور زندگی کی جنگ لڑنے کے جذبے کی ایک روشن مثال ہے۔