World
خطرناک مجرم سے شادی: خاندان کی بروقت کارروائی نے خاتون کی زندگی بچا لی
متاثرہ خاتون نے بی بی سی کو بتایا کہ اس کے خاندان اور دوستوں نے پولیس کو اہم شواہد فراہم کیے جس کی وجہ سے خطرناک زیادتی کے مجرم کرسٹوفر میلکم کو گرفتار کر لیا گیا۔ یہ سنسنی خیز واقعہ اس وقت سامنے آیا جب شادی کی تیاریاں عروج پر تھیں۔
ایک برطانوی خاتون، جن کی شناخت ظاہر نہ کرنے کی غرض سے 'ایمی' کا فرضی نام دیا گیا ہے، نے انکشاف کیا ہے کہ وہ ایک پرتشدد سیریل ریپسٹ سے شادی کرنے سے صرف چند ہفتے دور تھیں جب ان کے پیاروں نے ان کی زندگی بچا لی۔ ایمی نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بتایا کہ ان کے خاندان اور دوستوں نے انتہائی چوکسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پولیس کو انتہائی اہم اور فیصلہ کن شواہد فراہم کیے، جن کی بنیاد پر خطرناک مجرم کرسٹوفر میلکم کو گرفتار کرنے میں کامیابی ملی۔ یہ تمام انکشافات اس وقت سامنے آئے جب شادی کی تیاریاں آخری مراحل میں تھیں اور کوئی بھی اس ہولناک حقیقت سے آگاہ نہیں تھا۔ ایمی کے مطابق، انہیں بالکل اندازہ نہیں تھا کہ وہ جس شخص کے ساتھ اپنی زندگی کا نیا باب شروع کرنے جا رہی ہیں، وہ دراصل ایک خطرناک مجرم ہے۔ تاہم، ان کے قریبی حلقے نے کچھ مشکوک علامات محسوس کیں اور معاملے کی تہہ تک پہنچنے کا فیصلہ کیا۔ خاندان نے اپنی مدد آپ کے تحت کچھ شواہد جمع کیے اور انہیں فوری طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوالے کر دیا، جس نے اس معاملے پر فوری کارروائی کرتے ہوئے مجرم کو قانون کی گرفت میں لا کھڑا کیا۔ اس کارروائی نے نہ صرف ایک بڑی انفرادی افتاد کو ٹالا بلکہ معاشرے کو بھی ایک ایسے شخص سے محفوظ بنایا جو مزید افراد کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا تھا۔ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اگر بروقت شواہد فراہم نہ کیے جاتے تو صورتحال انتہائی خطرناک شکل اختیار کر سکتی تھی۔ اس واقعے کے بعد ماہرین نے بھی زور دیا ہے کہ رشتوں کے انتخاب میں محتاط رہنا اور کسی بھی مشکوک رویے کو نظر انداز نہ کرنا کس قدر اہم ہے۔ ایمی اب اس کٹھن وقت سے باہر نکلنے کی کوشش کر رہی ہیں اور اپنے خاندان اور دوستوں کی شکر گزار ہیں جنہوں نے بروقت قدم اٹھا کر ان کی زندگی کو بربادی سے بچا لیا۔