LIVE
Loading Breaking News...

سابقہ گرل فرینڈ کو دیے گئے تحفوں کی رقم کی واپسی کا مقدمہ خارج

News Image
سنگاپور کی ہائی کورٹ نے ایک شخص کا وہ دعویٰ مسترد کر دیا ہے جس میں وہ اپنی سابقہ گرل فرینڈ پر خرچ کیے گئے تین لاکھ انہتر ہزار ڈالر واپس مانگ رہا تھا۔ عدالت کا فیصلہ ہے کہ مدعی نے اپنی مرضی اور خوشی سے یہ پرتعیش تحفے دیے تھے۔
سنگاپور کی ہائی کورٹ نے ایک ایسے شخص کا مقدمہ خارج کر دیا ہے جو اپنی سابقہ گرل فرینڈ پر مہنگے تحفے کی مد میں خرچ کی گئی تین لاکھ انہتر ہزار امریکی ڈالر کی خطیر رقم واپس حاصل کرنا چاہتا تھا۔ عدالت کے فیصلے کے مطابق مدعی اس رقم کو حاصل کرنے کا قانونی طور پر حقدار نہیں ہے کیونکہ اس نے یہ تمام اخراجات اپنی مرضی اور رضا مندی سے کیے تھے۔ عدالت میں ہونے والی سماعت کے دوران جج نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ مدعی نے یہ پرتعیش تحفے اس وقت بھی دیے تھے جب وہ دونوں باضابطہ طور پر رشتے میں بھی نہیں بندھے تھے۔ جج کا کہنا تھا کہ دونوں کے تعلقات کے دوران مدعی نے خود ہی خوشی سے خاتون پر بیش قیمت تحفے نچھاور کیے تھے، اس لیے اب تعلقات ختم ہونے کے بعد ان تحفوں کی مالیت کو قانونی قرض یا فنانشل کلیم کے طور پر واپس مانگنا انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق اس عدل و انصاف کے فیصلے نے ان رشتوں کے حوالے سے ایک اہم نظیر قائم کی ہے جہاں اکثر بریک اپ کے بعد مالی تنازعات عدالتوں تک پہنچ جاتے ہیں۔ عدالت نے مدعی کے تمام دلائل کو ناکافی قرار دیتے ہوئے اس کے دعوے کو یکسر مسترد کر دیا، جس کے بعد اسے اپنی سابقہ دوست سے رقم کی واپسی کا کوئی قانونی راستہ نہیں مل سکا۔ اس منفرد قانونی جنگ نے عوامی سطح پر بھی شدید بحث کو جنم دیا ہے جہاں سوشل میڈیا صارفین اور قانونی حلقوں میں اس فیصلے کے مختلف زاویوں سے تجزیے کیے جا رہے ہیں۔ ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ اس نوعیت کے مقدمات میں تحائف اور قرض کے درمیان فرق کو واضح کرنا عدالتوں کے لیے ہمیشہ ایک چیلنج رہا ہے، مگر سنگاپور ہائی کورٹ کے اس فیصلے نے اس معاملے میں ایک واضح لکیر کھینچ دی ہے۔