LIVE
Loading Breaking News...

والدین کے قتل کا مقدمہ، چھتالیس سالہ بیٹا گرفتار

News Image
برطانیہ یا متعلقہ علاقے میں پیش آنے والے ایک دلخراش واقعے میں چھیانوے اور اسی برس کے ضعیف والدین کو گھر کے اندر چھرا گھونپ کر قتل کر دیا گیا۔ پولیس نے اس معاملے میں انہی کے چھتالیس سالہ بیٹے یاسین لیلیٰ پر دوہرے قتل کے الزامات عائد کر دیے ہیں۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایک انتہائی لرزہ خیز اور المناک واقعے کے بعد چھتالیس سالہ یاسین لیلیٰ پر دوہرے قتل کے الزامات عائد کر دیے ہیں۔ یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا جب اسی اور اٹھہتر سالہ معمر جوڑے کی لاشیں ان کے اپنے ہی رہائشی گھر سے برآمد ہوئیں۔ ابتدائی طبی معائنے اور جائے وقوعہ سے ملنے والے شواہد سے یہ بات واضح ہوئی کہ دونوں مقتولین کو مبینہ طور پر چھرا گھونپ کر بے دردی سے موت کے گھاٹ اتارا گیا تھا۔ اس اندوہناک واقعے نے پورے علاقے میں خوف و ہراس اور شدید غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔ اطلاع ملتے ہی مقامی پولیس اور ہنگامی خدمات کا عملہ فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گیا تھا، جنہوں نے فوری طور پر گھر کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے دوران تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا اور شواہد کی روشنی میں ہی سخت قانونی قدم اٹھایا گیا۔ گرفتار کیے گئے ملزم یاسین لیلیٰ کی عمر چھتالیس سال بتائی جاتی ہے، جسے تفتیش کے حراست میں لے کر متعلقہ عدالت میں پیش کرنے کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ اس دردناک واقعے کے بعد مقامی کمیونٹی کے افراد گہرے صدمے میں ہیں اور معمر جوڑے کے ساتھ پیش آنے والے اس سانحے پر شدید افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ پولیس اس بات کا بھی جائزہ لے رہی ہے کہ اس بہیمانہ جرم کے پیچھے کون سے محرکات کارفرما تھے اور آیا اس واقعے میں کوئی اور فرد بھی ملوث ہے یا نہیں۔ قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ملزم کو عدالت کے روبرو پیش کیا جائے گا جہاں اس پر باضابطہ فرد جرم عائد کی جائے گی اور مقدمے کی سماعت کا آغاز ہوگا۔