World
یو این کے نئے نقشے پر عالمی تنازعہ، جاپان، بھارت اور یوکرین کے تحفظات
اقوام متحدہ کی جانب سے جاری کردہ نئے نقشے پر کئی ممالک نے تکنیکی اور جغرافیائی تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ جاپان، بھارت اور یوکرین کو نقشے میں استعمال کیے جانے والے رنگوں کے شیڈز پر اعتراض ہے۔
اقوام متحدہ کی طرف سے حال ہی میں جاری کیے گئے ایک نئے عالمی نقشے نے بین الاقوامی سطح پر سفارتی بحث چھیڑ دی ہے۔ اگرچہ دنیا کے بیشتر ممالک اس نئے نقشے کے بنیادی ڈھانچے یا اس کے وجود کے خلاف نہیں ہیں، تاہم اس میں استعمال کیے جانے والے رنگوں کے شیڈز نے کئی ممالک کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ تنازعہ کسی بڑے زمینی تنازعے کی بجائے نقشہ سازی میں استعمال ہونے والی بصری علامات اور رنگوں کی نامناسب تقسیم پر مبنی ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق جاپان، بھارت اور یوکرین نے اس نئے نقشے پر اپنے باضابطہ تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان ممالک کا ماننا ہے کہ نقشے میں استعمال ہونے والے رنگوں کے شیڈز ان کے جغرافیائی حدود، علاقائی خودمختاری یا متنازعہ علاقوں کی عکاسی کو مبہم بناتے ہیں۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ نقشے میں رنگوں کا غلط استعمال بین الاقوامی تعلقات میں غیر ضروری غلط فہمیوں کو جنم دے سکتا ہے، اسی لیے یہ ممالک اس معاملے پر اقوام متحدہ کی انتظامیہ سے وضاحت اور اصلاح کے خواہاں ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر نقشے جاری کرنا کوئی معمولی بات نہیں ہوتی، کیونکہ ہر ملک کی جغرافیائی حدود کے حوالے سے حساسیت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ اقوام متحدہ کو اس طرح کے امور پر انتہائی احتیاط برتنی پڑتی ہے تاکہ کسی بھی رکن ملک کی دل آزاری نہ ہو یا ان کے قومی مفادات کو نقصان نہ پہنچے۔ اگرچہ یہ تنازعہ بظاہر صرف رنگوں کے شیڈز تک محدود ہے، لیکن سفارتی حلقوں میں اسے اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔
امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آنے والے دنوں میں اقوام متحدہ ان ممالک کے اعتراضات کا جائزہ لے گی اور نقشے میں ضروری ترامیم یا وضاحتیں جاری کی جائیں گی۔ دنیا بھر میں جغرافیائی اور سیاسی ماہرین اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ عالمی ادارہ اس سفارتی الجھن کو کیسے حل کرتا ہے۔