LIVE
Loading Breaking News...

دشت گردی کے خلاف جنگ کے 25 سال اور اس کے اثرات

News Image
امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے دو دہائیوں سے زائد عرصے سے جاری نام نہاد دشت گردی کے خلاف جنگ کے اثرات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ نئے ڈیٹا اور نقشوں کے مطابق، سنہ دو ہزار ایک کے بعد سے ہر سال دنیا کے کسی نہ کسی خطے میں امریکی بمباری اور فوجی کارروائیاں جاری رہی ہیں۔
دشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ کے آغاز کو پچیس سال مکمل ہونے والے ہیں، اور اس طویل عرصے کے دوران دنیا کے مختلف خطے شدید ترین بحرانوں، جنگوں اور نقل مکانی کا شکار رہے ہیں۔ دستیاب اعداد و شمار اور تجزیوں کے مطابق، سنہ دو ہزار ایک سے لے کر اب تک ایک سال بھی ایسا نہیں گزرا جب امریکی افواج نے دنیا کے کسی نہ کسی خطے میں بمباری یا فوجی مداخلت نہ کی ہو۔ ان کارروائیوں نے نہ صرف خطے کا امن تباہ کیا بلکہ کروڑوں انسانوں کو بے گھر بھی کیا۔ القاعدہ کے خلاف شروع ہونے والی یہ جنگ وقت کے ساتھ ساتھ مشرق وسطیٰ، جنوبی ایشیا اور افریقہ کے کئی ممالک تک پھیلتی چلی گئی۔ اس دوران عراق، افغانستان، شام، صومالیہ اور یمن سمیت متعدد ممالک براہ راست فوجی کارروائیوں اور ڈرون حملوں کی زد میں رہے۔ ان کارروائیوں کے نتیجے میں بنیادی ڈھانچہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا، معیشتیں بیٹھ گئیں اور لاکھوں بے گناہ شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ بین الاقوامی اداروں اور محققین نے اس طویل جنگ کے طویل المدتی اثرات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دشت گردی کے خاتمے کے نام پر شروع کی جانے والی ان مہمات نے الٹا خطے میں مزید شدت پسندی کو جنم دیا اور پائیدار امن کی کوششوں کو شدید نقصان پہنچایا۔ آج بھی دنیا کے کئی خطے ان پالیسیوں کے منفی اثرات سے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ لاکھوں لوگ اب بھی اپنے ہی وطن میں پناہ گزینوں کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔