World
نائن الیون اور اسرائیل کی فلسطینیوں کے خلاف پروپیگنڈا جنگ
نائن الیون کے بعد شروع ہونے والی 'دہشت گردی کے خلاف جنگ' نے اسرائیل کو فلسطینیوں پر ہونے والے مظالم کو ایک مشترکہ دشمن کے خلاف جنگ کے طور پر پیش کرنے کا موقع فراہم کیا۔ اس عالمی نظریاتی تبدیلی نے امریکی پالیسیوں اور عوامی سوچ پر گہرے نقوش چھوڑے۔
گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کے سانحے کے بعد عالمی سیاست میں جو نمایاں تبدیلیاں رونما ہوئیں، ان میں سب سے اہم امریکہ کی 'دہشت گردی کے خلاف جنگ' کا آغاز تھا۔ اس نئی عالمی فضا نے جہاں خطے کے کئی ممالک کو متاثر کیا، وہیں اسرائیل کے لیے یہ موقع سنہرا ثابت ہوا کہ وہ فلسطینیوں کے خلاف اپنی جارحانہ پالیسیوں اور فوجی کارروائیوں کو مغربی دنیا بالخصوص امریکہ میں ایک مشترکہ نظریاتی جنگ کے طور پر پیش کرے۔ اس بیانیے کے تحت فلسطینی مزاحمت اور عالمی دہشت گردی کو ایک ہی صف میں لاکھڑا کیا گیا، جس سے اسرائیل کے اقدامات کو اندرونی اور بیرونی سطح پر جواز فراہم کرنے میں بڑی مدد ملی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، اس سے پہلے اسرائیل کی طرف سے فلسطینی علاقوں میں کی جانے والی کارروائیوں پر بین الاقوامی سطح پر وقتاً فوقتاً سوالات اٹھائے جاتے تھے اور انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی اس پر آواز بلند کرتی تھیں۔ تاہم، نائن الیون کے بعد جب امریکی عوام اور فیصلہ ساز اداروں میں سکیورٹی خدانے سر اٹھایا، تو اسرائیلی حکومت نے اس خوف کو انتہائی چالاکی سے اپنے حق میں استعمال کیا۔ انہوں نے یہ تاثر دینا شروع کیا کہ تل ابیب اور واشنگٹن ایک ہی قسم کے انتہا پسند دشمن کا سامنا کر رہے ہیں، اور فلسطینیوں کے خلاف طاقت کا استعمال دراصل درپیش مشترکہ خطرات سے نمٹنے کا ایک ناگزیر حصہ ہے۔
اس حکمت عملی نے امریکی میڈیا اور سیاسی حلقوں میں اسرائیل کے لیے نرم گوشہ پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس دور میں ہونے والی فکری اور سیاسی تبدیلیوں کی وجہ سے امریکی انتظامیہ نے اسرائیل کے سکیورٹی اقدامات پر تنقید کرنے سے گریز کرنا شروع کیا اور عسکری امداد کا سلسلہ بھی مزید وسیع کر دیا گیا۔ یوں 'دہشت گردی کے خلاف جنگ' کے عنوان نے اسرائیل کو فلسطینیوں کے حقوق کی پامالیوں کو چھپانے اور اپنی دفاعی پالیسیوں کو عالمی سطح پر قبول کرانے کے لیے ایک مؤثر ڈھال فراہم کر دی، جس کے اثرات آج بھی مشرق وسطیٰ کی سیاست پر واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔