World
ہانگ کانگ عدالت کا فیصلہ: تینانمین یادگاری کارکنوں کو سخت سزائیں
ہانگ کانگ کی عدالت نے سنہ 2020 کے سخت قومی سلامتی کے قانون کے تحت تینانمین چوک کے مظاہروں کی یاد منانے والے سرکردہ کارکنوں کو طویل قید کی سزائیں سنا دی ہیں۔ یہ سزائیں شہر میں سیاسی اختلافِ رائے کو کچلنے اور بنیادی آزادیوں کو محدود کرنے کی تازہ ترین کڑی ہیں۔
ہانگ کانگ کی ایک عدالت نے سنہ 2020 میں نافذ کیے جانے والے متنازع اور سخت قومی سلامتی کے قانون کے تحت تینانمین چوک کے واقعے کی یاد میں تقریب منعقد کرنے والے سرکردہ کارکنوں کو طویل اور سخت قید کی سزائیں سنا دی ہیں۔ عدالتی فیصلے کے بعد انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں اور مقامی حلقوں کی طرف سے شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ یہ کارروائی اس وقت عمل میں لائی گئی ہے جب انتظامیہ شہر میں حکومت مخالف سرگرمیوں اور ماضی کے یادگاری اجتماعات کو سختی سے کچلنے کے درپے ہے۔
سنہ 2020 میں بیجنگ کی جانب سے ہانگ کانگ میں قومی سلامتی کا جو قانون نافذ کیا گیا تھا، اس کا بنیادی مقصد ان بڑے پیمانے پر ہونے والے احتجاجی مظاہروں کو روکنا اور دپٹنا تھا جو جمہوریت کے حق میں سڑکوں پر نکلے تھے۔ اس نئے قانون کے نفاذ کے بعد سے ہانگ کانگ میں اختلافِ رائے کی گنجائش انتہائی کم ہو چکی ہے اور حزبِ اختلاف کے رہنماؤں، صحافیوں اور سماجی کارکنوں کے خلاف قانونی شکنجہ مسلسل کسا جا رہا ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق تازہ ترین عدالتی فیصلے اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ ہانگ کانگ کا عدالتی نظام اب مرکزی حکومت کے سخت ضابطوں اور پالیسیوں کے مکمل اثر و رسوخ کے تحت کام کر رہا ہے۔ تینانمین چوک کے مظاہروں کی یاد میں ہر سال شمعیں روشن کرنے اور پرامن اجتماع کرنے کا جو سلسلہ دہائیوں سے جاری تھا، اسے اب مکمل طور پر غیر قانونی قرار دے کر دبا دیا گیا ہے۔ اس فیصلے سے ہانگ کانگ کے شہریوں میں خوف و ہراس کی فضا مزید گہری ہو گئی ہے۔