World
نو ستمبر کے بعد ہوائی سفر کی دنیا میں بڑی تبدیلیاں
نو ستمبر کے حملوں کے بعد دنیا بھر میں ہوائی سفر کے قواعد و ضوابط میں انقلابی تبدیلیاں کی گئیں۔ ان اقدامات میں ہوائی اڈوں پر سخت حفاظتی چیکنگ اور طیاروں کے کاک پٹس کو بلٹ پروف بنانا شامل ہے۔
نو ستمبر دو ہزار ایک کے ہلاکت خیز حملوں نے پوری دنیا میں سفر کے نظام کو یکسر تبدیل کر کے رکھ دیا۔ ان افسوسناک واقعات سے قبل ہوائی اڈوں پر سیکیورٹی کے انتظامات اتنے سخت نہیں تھے جتنے کہ آج کل نظر آتے ہیں۔ مسافر پرواز کے وقت سے محض کچھ دیر پہلے ائیرپورٹ پہنچتے تھے اور کاغذی کارروائی یا سیکورٹی چیک کا عمل انتہائی مختصر اور آسان ہوتا تھا۔ لیکن گیارہ ستمبر کے بعد صورتحال بالکل بدل گئی اور حکومتوں نے فضائی سفر کو محفوظ بنانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کا آغاز کیا۔
امریکہ میں اس تبدیلی کا سب سے بڑا ثبوت 'ایوی ایشن اینڈ ٹرانسپورٹیشن سیکیورٹی ایکٹ' (TSA) کا نفاذ تھا، جس کے تحت ہوائی اڈوں کی سیکورٹی کو براہ راست وفاقی حکومت کے کنٹرول میں دے دیا گیا۔ اس قانون کے نفاذ کے بعد مسافروں کے لیے سیکورٹی کے سخت ترین مراحل سے گزرنا لازمی قرار دیا گیا، جن میں سامان کی تلاشی، جسمانی اسکیننگ اور ممنوعہ اشیاء پر سخت پابندیاں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، ائیرپورٹس پر انتظار کے اوقات میں نمایاں اضافہ ہوا کیونکہ ہر مسافر کی جانچ پڑتال کو انتہائی باریک بینی سے انجام دیا جانے لگا۔
صرف ائیرپورٹس ہی نہیں بلکہ خود ہوائی جہازوں کے اندر بھی حفاظتی انتظامات میں بنیادی تبدیلیاں کی گئیں۔ پروازوں کے دوران کسی بھی ممکنہ ہائی جیکنگ یا خطرے کو ناکام بنانے کے لیے طیاروں کے کاک پٹس کو بلٹ پروف اور زیادہ محفوظ بنا دیا گیا تاکہ کوئی بھی غیر متعلقہ شخص پائلٹ کے کیبن میں داخل نہ ہو سکے۔ پائلٹس اور عملے کے لیے بھی نئی تربیتیں متعارف کروائی گئیں تاکہ وہ ہنگامی صورتحال سے مؤثر طریقے سے نبردآزما ہو سکیں۔
اگرچہ ان تمام سخت حفاظتی اقدامات کی وجہ سے مسافروں کو طویل قطاروں اور اضافی وقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن اس کا بنیادی مقصد کروڑوں مسافروں کی جانوں کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔ آج دو دہائیوں سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے باوجود یہ اصول فضائی سفر کا ایک لازمی حصہ بنے ہوئے ہیں اور انہوں نے عالمی سطح پر سفر کو زیادہ محفوظ اور قابل اعتماد بنا دیا ہے۔