LIVE
Loading Breaking News...

برکس سربراہی اجلاس اور مغربی تسلط کا مستقبل

News Image
حالیہ برکس سربراہی اجلاس کے بعد بین الاقوامی سطح پر یہ بحث جاری ہے کہ کیا یہ بلاک مغربی تسلط کو چیلنج کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ کامیابی کے لیے مغربی نظام کو ہٹانا ضروری نہیں بلکہ مغربی غلبے کو مشکل بنانا ہی کافی ہے۔
عالمی سیاست کے منظر نامے پر برکس (BRICS) بلاک کا کردار تیزی سے اہم ہوتا جا رہا ہے اور حال ہی میں منعقد ہونے والے سربراہی اجلاس نے دنیا بھر کے سیاسی تجزیہ کاروں کی توجہ مبذول کرا لی ہے۔ بنیادی سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا یہ ابھرتی ہوئی معیشتوں کا اتحاد واقعی مغربی دنیا اور بالخصوص امریکہ کے عالمی تسلط کو چیلنج کرنے کی پوزیشن میں ہے؟ اس حوالے سے بین الاقوامی امور کے ماہرین کے درمیان مختلف آراء پائی جاتی ہیں، جن کا مطالعہ عالمی معیشت کے مستقبل کو سمجھنے کے لیے نہایت ضروری ہے۔ کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ برکس بلاک کو مغربی نظام کا مکمل متبادل بننے کی کوئی ضرورت نہیں ہے تاکہ وہ اپنی کامیابی کی منزل پا سکے۔ ان تجزیہ کاروں کے مطابق، اس اتحاد کا اصل ہدف موجودہ عالمی مالیاتی اور سیاسی ڈھانچے کو یکسر ختم کرنا نہیں ہے، بلکہ دنیا میں مغربی ممالک کی طرف سے من مانی کرنے کے رجحان اور غلبے کو مزید مشکل بنانا ہے۔ جب متبادل اقتصادی پلیٹ فارمز موجود ہوں گے، تو روایتی مغربی طاقتیں یکطرفہ فیصلے کرنے سے پہلے زیادہ محتاط ہوں گی، جس سے عالمی سطح پر طاقت کا توازن قدرے بہتر ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب، تنقید نگاروں کا یہ مؤقف بھی ہے کہ برکس کے رکن ممالک کے اپنے اندرونی تنازعات اور مختلف اقتصادی مفادات اس اتحاد کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ چین اور بھارت جیسے بڑے حریف ممالک کی موجودگی اس بات کو مشکوک بناتی ہے کہ یہ بلاک کوئی متفقہ اور طویل المدتی حکمت عملی تشکیل دے سکے گا۔ اس کے باوجود، عالمی جنوب (Global South) کے ممالک کی طرف سے اس پلیٹ فارم کو ملنے والا رسپانس اس بات کا غماز ہے کہ دنیا اب یک قطبی نظام سے نکل کر کثیر قطبی نظام کی طرف تیزی سے بڑھ رہی ہے، جہاں اب اکیلے مغرب کی مرضی نہیں چلے گی۔