LIVE
Loading Breaking News...

یمنی حوثیوں کا بحیرہ احمر کے اہم جزیرے پر کنٹرول

News Image
ایران کی حمایت یافتہ حوثی تحریک نے بحیرہ احمر کے ایک اہم اسٹریٹجک جزیرے اور ساحلی پٹی پر موثر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ اس پیش قدمی کے بعد عالمی تیل کی سپلائی اور اہم تجارتی گزرگاہ باب المندب کے حوالے سے سکیورٹی خدشات میں اضافہ ہو گیا ہے۔
یمن میں سرگرم ایران کی حمایت یافتہ حوثی تحریک نے بین الاقوامی سطح پر انتہائی اہم سمجھے جانے والے بحیرہ احمر کے ایک اسٹریٹجک جزیرے اور اہم ساحلی علاقوں پر اپنا اثر و رسوخ اور موثر کنٹرول قائم کر لیا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا اور خبر رساں اداروں کے مطابق یہ تازہ ترین پیش قدمی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں کشیدگی عروج پر ہے اور اہم سمندری گزرگاہوں کی سکیورٹی کے حوالے سے عالمی طاقتیں شدید تشویش میں مبتلا ہیں۔ باب المندب اور بحیرہ احمر کا یہ خطہ دنیا بھر میں تیل اور دیگر اشیائے ضروریہ کی نقل و حمل کے لیے ایک اہم ترین کچ پوائن کی حیثیت رکھتا ہے، جہاں سے روزانہ کی بنیاد پر لاکھوں بیرل تیل گزرتا ہے۔ رپورٹس کے مطابق حوثی باغیوں کی جانب سے یمن کے ساحلی علاقوں بالخصوص اہم بندرگاہوں اور جزائر پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد عالمی بحری تجارت کو نئے چیلنجز کا سامنا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس جغرافیائی مقام پر حوثیوں کی برتری سے بین الاقوامی جہاز رانی براہ راست متاثر ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں اور سپلائی چین پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ کئی ممالک نے اس پیش قدمی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ سمندری تجارت کے اس اہم ترین روٹ پر سکیورٹی کے خطرات بڑھنے سے عالمی معیشت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ امریکہ اور اس کے اتحادی پہلے ہی بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں کی حفاظت کے لیے مختلف اقدامات پر غور کر رہے ہیں، تاہم حوثیوں کی اس تازہ پیش قدمی نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ خطے کے سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر اس تنازع کا سفارتی حل نہ نکالا گیا تو یہ بحران مزید وسعت اختیار کر سکتا ہے، جس سے نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کے امن و امان اور معاشی استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ حوثی قیادت کی جانب سے تاحال اس پیش قدمی کے طویل المدتی اسٹریٹجک مقاصد کے حوالے سے باضابطہ تفصیلات سامنے نہیں آئیں، مگر زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ اس خطے میں طاقت کا توازن تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔