Technology
پاکستان میں سائبر فراڈ سے آٹھ ارب روپے کا نقصان
پاکستان میں بڑھتے ہوئے سائبر جرائم اور ڈیجیٹل فراڈ کے باعث شہریوں کو اربوں روپے کا مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ متعلقہ اداروں کی جانب سے آن لائن سیکیورٹی کو بہتر بنانے اور عوام میں آگاہی پھیلانے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔
پاکستان میں ڈیجیٹل دور کے آغاز کے ساتھ ہی سائبر جرائم اور آن لائن فراڈ کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق پاکستانی شہریوں کو مختلف اقسام کے سائبر فراڈ کے نتیجے میں مجموعی طور پر آٹھ ارب بتیس کروڑ روپے سے زائد کے مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف ملک کے ڈیجیٹل مالیاتی نظام پر ایک سوالیہ نشان ہے بلکہ عام شہریوں کی سیکیورٹی کے حوالے سے بھی شدید خدشات کو جنم دیتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ لوگ اکثر آن لائن اسکیمز، جعلی کالز اور فشنگ لنکس کا شکار ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے ان کے بینک اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک مجرموں کی رسائی آسان ہو جاتی ہے۔
اس سنگین صورتحال سے نمٹنے کے لیے وفاقی اور صوبائی سطح پر تحقیقاتی ادارے اور سیکیورٹی ایجنسیاں متحرک ہو چکی ہیں۔ ایف آئی اے (FIA) اور دیگر متعلقہ اداروں کے سائبر کرائم ونگز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ایسے عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کریں جو سادہ لوح شہریوں کو جھانسہ دے کر ان کی جمع پونجی لوٹ رہے ہیں۔ بینکوں اور مالیاتی اداروں کو بھی یہ ہدایت جاری کی گئی ہے کہ وہ اپنے سسٹمز کو مزید محفوظ بنائیں اور اپنے صارفین کو مشکوک سرگرمیوں سے بروقت آگاہ کریں۔ اس کے علاوہ، آن لائن ٹرانزیکشنز کے دوران دو طرفہ توثیق (Two-Factor Authentication) اور دیگر حفاظتی اقدامات کو یقینی بنانے پر زور دیا جا رہا ہے تاکہ غیر مجاز رسائی کو روکا جا سکے۔
دوسری جانب، اس مسئلے کا سب سے موثر حل عوامی بیداری کو قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین اور حکام کا اصرار ہے کہ شہریوں کو کسی بھی نامعلوم نمبر سے آنے والی کال، میسج یا ای میل پر اپنی نجی معلومات، پن کوڈ یا پاس ورڈ شیئر کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ مالیاتی اداروں اور میڈیا کے توسط سے وقتاً فوقتاً آگاہی مہمات بھی چلائی جا رہی ہیں تاکہ عوام کو بتایا جا سکے کہ کس طرح وہ خود کو اسمارٹ فون اور انٹرنیٹ کے اس دور میں سائبر مجرموں سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ اگر حکومت، ادارے اور عوام مل کر ایک جامع حکمت عملی کے تحت کام کریں تو نہ صرف سائبر فراڈ کی شرح میں کمی لائی جا سکتی ہے بلکہ شہریوں کے قیمتی اثاثوں کو بھی تحفظ فراہم کیا جا سکتا ہے۔