LIVE
Loading Breaking News...

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا ایران کشیدگی پر اہم بند کمرہ اجلاس

News Image
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کے ساتھ جاری تنازعے پر امریکی جنرلز سے براہ راست اور غیر جانبدارانہ معلومات حاصل کی ہیں۔ انہوں نے اس تنازعے کو باضابطہ جنگ کہنے سے گریز کیا ہے جبکہ دونوں ممالک اسلحے کے ذخائر کے حوالے سے بھی فکر مند ہیں۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کے ساتھ کشیدگی کے معاملے پر بند کمرے میں اہم اجلاس طلب کیے جن کا مقصد اس تنازعے کے حوالے سے بالکل غیر مبہم اور حقیقی آراء حاصل کرنا تھا۔ نیویارک ٹائمز اور دیگر بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق وینس نے روایتی سفارتی اور بیوروکریٹک چینلز سے ہٹ کر امریکی فوج کے اعلیٰ جنرلز سے براہ راست انٹیلی جنس معلومات طلب کیں تاکہ زمینی حقائق کا صحیح اندازہ لگایا جا سکے۔ اس خفیہ عمل کا مقصد ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کی اصل نوعیت اور فوجی تیاریوں کا احاطہ کرنا تھا۔ دوسری جانب ایسوسی ایٹڈ پریس اور دیگر ذرائع کے مطابق جے ڈی وینس نے واضح کیا ہے کہ وہ موجودہ امریکی تصادم کو باضابطہ 'جنگ' کا نام دینے سے گریز کریں گے۔ اس دوران واشنگتن اور تہران دونوں سطحوں پر عسکری حلقوں میں اس بات پر بھی گہری تشویش پائی جاتی ہے کہ دونوں فریقین کے پاس موجود اہم اسلحے اور گولہ بارود کے ذخائر کس سطح پر ہیں۔ ہتھیاروں کی کم ہوتی ہوئی سطح اور اس کے ممکنہ اسٹریٹجک اثرات پر بھی امریکی عسکری قیادت کے اندر گہری بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق جے ڈی وینس کا یہ اقدام اس بات کا غماز ہے کہ واشنگتن کے اندرونی حلقے ایران کے خلاف کسی بھی ممکنہ بڑے فوجی اقدام یا طویل المدتی کشیدگی کے نتائج کو لے کر انتہائی محتاط ہیں۔ بند کمرے میں کی جانے والی اس مشاورت سے حاصل ہونے والی معلومات امریکی انتظامیہ کی آئندہ کی خارجہ اور دفاعی حکمت عملی کی تشکیل میں انتہائی اہم کردار ادا کریں گی۔ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کے اس ماحول میں فوجی اور سیاسی قیادت تمام ممکنہ پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے۔