World
اردن میں امریکی طیاروں کو نقصان، ایرانی حملوں کی رپورٹس
اردن میں ہونے والے حملوں کے نتیجے میں کئی امریکی فوجی طیاروں کو نقصان پہنچا ہے تاہم کسی امریکی جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی۔ رپورٹس کے مطابق اس واقعے کے بعد خطے میں کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
حالیہ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اردن کے اندر ہونے والے حملوں میں کئی امریکی فوجی طیاروں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ ان حملوں کے پس منظر اور ذمہ داران کے بارے میں تفصیلی معلومات اکھٹی کی جا رہی ہیں، جبکہ ابتدائی اطلاعات میں اس کا رخ ایران کی جانب اشارہ کیا جا رہا ہے۔ یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں رونما ہوا ہے جب خطے میں پہلے ہی شدید تناؤ پایا جاتا ہے اور مختلف ممالک کے درمیان عسکری حرکیات میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ امریکی حکام اور عسکری ذرائع کی جانب سے تاحال اس نقصان کے حوالے سے گہرائی سے جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ اس کے اثرات کا تخمینہ لگایا جا سکے۔ رپورٹس میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اس فضائی یا میزائل کارروائی کے نتیجے میں کسی بھی امریکی فوجی یا اہلکار کے ہلاک یا زخمی ہونے کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔ تمام امریکی عملہ محفوظ بتایا جاتا ہے جو کہ دفاعی حکام کے لیے ایک بڑی راحت کی بات ہے۔ اس کے باوجود، اہم فوجی اثاثوں کو پہنچنے والا نقصان امریکی دفاعی صلاحیتوں اور خطے میں موجود اڈوں کی سکیورٹی پر ایک سوالیہ نشان چھوڑتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس نوعیت کے حملے خطے کے اندر عسکری تصادم کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر سکتے ہیں۔ سفارتی اور عسکری حلقوں میں اس واقعے کے بعد گہری تشویش پائی جاتی ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی اس صورتحال کا کوئی سخت سفارتی یا دفاعی جواب دیں گے۔ آنے والے دنوں میں اس حوالے سے مزید حقائق سامنے آنے کی توقع ہے جو اس خطے کے مستقبل کی سمت کا تعین کریں گے۔