LIVE
Loading Breaking News...

اسرائیل کی کارروائی، حزب اللہ کا زیر زمین اڈا تباہ، زلزلے کے جھٹکے محسوس

News Image
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے حزب اللہ کے ایک بڑے زیر زمین انفراسٹرکچر کو کامیابی سے تباہ کر دیا ہے۔ اس دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ امریکی ارضیاتی سروے کے مطابق اس کا زلزلہ ریکٹر سکیل پر 4.1 درجے کے زلزلے کے برابر ریکارڈ کیا گیا۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے لبنان کے اندر عسکری تنظیم حزب اللہ کے ایک اہم اور بڑے زیر زمین عسکری اڈے کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔ اس کارروائی کے دوران ایک انتہائی طاقتور دھماکہ ہوا جس کی گونج دور دور تک محسوس کی گئی۔ یہ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ اس کے اثرات نے مقامی سطح پر ارضیاتی لہریں پیدا کیں۔ امریکی ارضیاتی سروے (USGS) کے مطابق اس طاقتور دھماکے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی توانائی اتنی زیادہ تھی کہ اسے ریکٹر سکیل پر 4.1 درجے کے زلزلے کے مساوی ریکارڈ کیا گیا۔ عینی شاہدین اور مقامی ذرائع نے بھی تصدیق کی ہے کہ دھماکے کے وقت زمین لرز اٹھی تھی جس سے شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ حالیہ مہینوں میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جاری کشیدگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے، اور دونوں جانب سے فضائی و زمینی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ملک کی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے اس طرح کی بڑی عسکری تنصیبات کو نشانہ بنا رہے ہیں جو مبینہ طور پر ان کے خلاف استعمال کی جا رہی تھیں۔ اس زیر زمین اڈے کی تباہی کو اسرائیل کی جانب سے ایک بڑی اسٹریٹجک کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ اس میں عسکری سازوسامان اور اسلحہ ذخیرہ کیے جانے کی اطلاعات تھیں۔ دوسری جانب خطے میں اس قسم کے بڑے دھماکوں اور فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں انسانی بحران اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی کے خدشات بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔ بین الاقوامی برادری نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس نوعیت کے بڑے پیمانے پر ہونے والے حملے تنازع کو مزید طول دے سکتے ہیں اور سفارتی حل کی کوششوں کو دھچکا لگ سکتا ہے۔ یو این اور دیگر عالمی ادارے خطے میں جنگ بندی کے لیے کوششیں کر رہے ہیں تاکہ عام شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ آنے والے دنوں میں اس صورتحال کے خطے پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں، یہ دیکھنا باقی ہے۔