LIVE
Loading Breaking News...

سدرن واٹر فراڈ کیس: سابق باس میتھیو رائٹ عدالت میں پیش

News Image
سدرن واٹر کے سابق سربراہ میتھیو رائٹ پانی کے معیار کے ٹیسٹس میں مبینہ ہیرا پھیری کے الزامات کے سلسلے میں عدالت میں پیش ہوگئے۔ وہ ان سات سابق ملازمین میں شامل ہیں جن پر واٹر کوالٹی کے اعداد و شمار سے چھیڑ چھاڑ کرنے کا الزام ہے۔
برطانیہ کے پانی کی فراہمی کے ادارے سدرن واٹر کے سابق سربراہ میتھیو رائٹ پانی کے معیار کے ٹیسٹس میں مبینہ ہیرا پھیری کے سنگین الزامات کے تحت عدالت میں پیش ہوگئے ہیں۔ اس قانونی کارروائی نے برطانوی واٹر سیکٹر میں سنسنی پھیلا دی ہے جہاں ماحولیاتی ضابطوں اور پانی کے معیار کی جانچ پڑتال کے عمل پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ میتھیو رائٹ ان سات سابق ملازمین میں شامل ہیں جن پر واٹر کوالٹی کے ٹیسٹس میں ہیرا پھیری کرنے اور ریگولیٹری اداروں کو گمراہ کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ یہ معاملہ صارفین کے اعتماد اور ماحول دوستی کے دعووں پر ایک بڑا سوالیہ نشان بنتا جا رہا ہے۔ استغاثہ کے مطابق ملزمان نے مبینہ طور پر پانی کے معیار کے باقاعدہ معائنے اور ٹیسٹنگ کے دوران ایسے طریقے اختیار کیے جن سے نتائج کو بہتر دکھایا جا سکے تاکہ قواعد و ضوابط کی خلاف ورزیوں کو چھپایا جا سکے۔ اس قسم کی مبینہ بے ضابطگیاں نہ صرف قانون کی سنگین خلاف ورزی ہیں بلکہ یہ عوامی صحت اور حفاظت کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہیں۔ عدالت میں ابتدائی کارروائی کے دوران دونوں جانب کے دلائل سنے گئے اور جج نے کیس کی آئندہ سماعت کے لیے تاریخ مقرر کر دی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس مقدمے کا فیصلہ برطانوی واٹر انڈسٹری کے مستقبل پر گہرے اثرات مرتب کرے گا اور تمام اداروں کو اپنے نظام کو مزید شفاف بنانے پر مجبور کرے گا۔ سدرن واٹر کے اس اسکینڈل نے عام شہریوں اور ماحولیاتی کارکنوں میں شدید تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، جو طویل عرصے سے واٹر کمپنیوں کی کارکردگی اور شفافیت پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں۔