World
سندر بن میں طبی پودوں کا خاتمہ اور ماحولیاتی بحران
دنیا کے سب سے بڑے مینگروو جنگلات میں سمندر کا نمکین پانی داخل ہونے کی وجہ سے نایاب روایتی طبی پودے تیزی سے ختم ہو رہے ہیں۔ یہ صورتحال مقامی طبی روایات اور ماحولیاتی توازن کے لیے ایک بڑا خطرہ بنتی جا رہی ہے۔
دنیا کے سب سے بڑے مینگروو جنگلات یعنی سندر بن کو ایک سنگین ماحولیاتی بحران کا سامنا ہے، جہاں سمندری پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اس بڑھتے ہوئے پانی کے ساتھ نمکیات بھی جنگل کے اندرونی حصوں تک پہنچ رہی ہیں، جس کے نتیجے میں وہاں پائے جانے والے قیمتی اور روایتی طبی پودے تیزی سے معدوم ہو رہے ہیں۔ یہ خطہ صدیوں سے مقامی آبادی کے لیے ایک قدرتی دواخانے کی حیثیت رکھتا تھا جہاں مختلف بیماریوں کے علاج کے لیے جڑی بوٹیاں اور پودے باآسانی دستیاب ہوتے تھے۔ ماحولیاتی ماہرین کے مطابق، ساحلی پٹی پر سمندر کا دباؤ بڑھنے کی وجہ سے نہ صرف جنگلی حیات متاثر ہو رہی ہے بلکہ یہاں کی منفرد نباتاتی حیات بھی شدید خطرے کی زد میں ہے۔ پودوں کی ان نایاب اقسام کا خاتمہ نہ صرف مقامی روایتی طب کو نقصان پہنچا رہا ہے بلکہ یہ اس پورے خطے کے ماحولیاتی نظام کے لیے بھی ایک بڑا انتباہ ہے۔ مقامی طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ وہ نسل در نسل ان پودوں کو مختلف امراض کے علاج کے لیے استعمال کرتے آئے ہیں، لیکن اب نمکیات کی زیادتی کی وجہ سے ان کا اگنا اور زندہ رہنا ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔ حکومتوں اور بین الاقوامی اداروں پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ اس سنگین مسئلے پر فوری توجہ دیں اور سندر بن کے ان قیمتی قدرتی وسائل کو بچانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کریں تاکہ اس قدرتی دواخانے کو مکمل تباہی سے بچایا جا سکے۔