LIVE
Loading Breaking News...

وار اگینسٹ ٹیرر کا قانونی ڈھانچہ اور اس کے اثرات

News Image
نائن الیون کے پچیس سال بعد بھی دنیا اسی سیکیورٹی نظام کے سائے میں زندگی گزار رہی ہے۔ عالمی سطح پر انسانی حقوق اور قوانین کو درپیش چیلنجز پر اب سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔
نائن الیون کے المناک واقعے کو ایک چوتھائی صدی گزرنے کو ہے، لیکن دنیا آج بھی اسی سخت سیکیورٹی نظام اور عسکری سوچ کے حصار میں قید ہے جو اس واقعے کے فوراً بعد تخلیق کیا گیا تھا۔ اس دوران دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر جو قوانین اور ضابطے بنائے گئے، انہوں نے بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق، شخصی آزادی اور بین الاقوامی قوانین کے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ نام نہاد حفاظتی اقدامات دراصل ایک ایسا تسلسل بن چکے ہیں جو جمہوری اقدار اور قانون کی بالادستی کو مسلسل چیلنج کر رہے ہیں۔ عالمی سطح پر یہ آوازیں ابزور میں شدت اختیار کر رہی ہیں کہ اس غیر منصفانہ اور جابرانہ قانونی ڈھانچے کو مکمل طور پر ختم کیا جائے۔ موجودہ حالات کا تقاضا ہے کہ ریاستیں محض عسکری ہتھکنڈوں پر انحصار کرنے کے بجائے انصاف، مساوات اور روایتی قانونی اصولوں کی طرف واپس آئیں تاکہ عام شہریوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ ماضی کے ان فیصلوں نے دنیا کو جس خوف اور سیکیورٹی کی فضا میں دھکیلا تھا، اب وقت آ گیا ہے کہ اس سے باہر نکلا جائے۔ اگر اس پرانا اور ناکام سیکیورٹی ماڈل کو تبدیل نہ کیا گیا تو یہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی جمہوری حقوق اور آزادیوں کا گلا گھونٹنے کا سبب بنتا رہے گا۔ عالمی برادری کو اس معاملے پر ایک مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنا ہوگا تاکہ انسانی وقار کو بحال کیا جا سکے۔