World
کیف میں روسی حملے جاری، ایندھن کے اسٹیشنوں پر بمباری سے دو افراد جاں بحق
یوکرین کے دارالحکومت کیف پر روس کے فضائی حملوں میں دو افراد ہلاک ہو گئے۔ ایندھن کے اسٹیشنوں کو مسلسل دوسرے روز نشانہ بنانا شہری علاقوں کے خلاف نئی جنگی مہم کی غمازی کرتا ہے۔
یوکرین کے دارالحکومت کیف میں روسی افواج کی جانب سے فضائی حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جن میں تازہ ترین کارروائی کے دوران کم از کم دو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ روسی حملوں کا بنیادی ہدف اس بار شہر میں موجود ایندھن کے اسٹیشن اور توانائی کی فراہمی کے مراکز بنے ہیں، جس سے دارالحکومت کے عام شہریوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ حملے مسلسل دوسرے روز بھی جاری رہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ماسکو اب یوکرین کے بڑے شہری مراکز اور بنیادی ڈھانچے کو براہ راست نشانہ بنانے کی ایک نئی اور خطرناک مہم پر عمل پیرا ہے۔
حملوں کے نتیجے میں کیف کے مختلف حصوں میں ایندھن کے ڈپٹیوں اور پٹرول پمپوں پر شدید دھماکے سنے گئے اور آگ بھڑک اٹھی۔ فائر بریگیڈ اور ریسکیو ٹیموں نے فوری طور پر موقع پر پہنچ کر امدادی کارروائیاں شروع کیں اور آگ پر قابو پانے کی کوشش کی۔ مقامی انتظامیہ نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے اور فضائی حملے کے سائرن بجتے ہی محفوظ پناہ گاہوں میں منتقل ہونے کی سخت ہدایت جاری کی ہے۔ اس حملے نے ایک بار پھر جنگ کے باعث عام شہریوں کو درپیش خطرات کو اجاگر کر دیا ہے۔
بین الاقوامی برادری اور یوکرینی قیادت نے ان حملوں کی شدید مذمت کی ہے، جن کا کہنا ہے کہ شہری آبادی اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ روس کی جانب سے کیف پر ان فضائی حملوں کا مقصد نہ صرف یوکرین کی دفاعی صلاحیت کو کمزور کرنا ہے بلکہ شہریوں کا مورال پست کرنا بھی ہے۔ صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے یوکرین کے اتحادی ممالک ایک بار پھر فضائی دفاعی نظام کی فراہمی اور مزید امداد کے لیے سرگرم ہو گئے ہیں تاکہ روس کی اس نئی جارحیت کا مؤثر جواب دیا جا سکے.