LIVE
Loading Breaking News...

غزہ میں بھوک کا بحران اور یو این کے اعداد و شمار کی غلط تشریح

News Image
امریکہ اور اسرائیل غزہ میں بچوں میں شدید غذائیت کی کمی کے کیسز میں کمی کے اعداد و شمار کا غلط استعمال کر رہے ہیں۔ اس ڈیٹا کو بنیاد بنا کر یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ غزہ میں اب بھوک اور قحط کا کوئی بحران موجود نہیں ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کے اعلیٰ حکام کی جانب سے غزہ کی پٹی کے حوالے سے بین الاقوامی سطح پر فراہم کردہ اعداد و شمار کو مسخ کرنے کا ایک نیا انکشاف سامنے آیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، یہ حکام غزہ میں شدید غذائیت کی کمی (acute malnutrition) کے کیسز میں معمولی کمی کو بنیاد بنا کر یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ محاصرہ زدہ علاقے میں اب بھوک کا کوئی بحران باقی نہیں رہا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ دعوے حقائق کے منافی ہیں اور زمینی صورتحال کو یکسر نظر انداز کرنے کے مترادف ہیں۔ بین الاقوامی امدادی تنظیموں اور اقوام متحدہ کے اداروں نے اس بات کی شدید مذمت کی ہے کہ کس طرح سیاسی مقاصد کے لیے انسانی ہمدردی کے اعداد و شمار کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔ غزہ میں محاصرے، ادویات کی قلت اور خوراک کی ترسیل میں مسلسل رکاوٹوں کی وجہ سے عام شہریوں کی زندگیاں پہلے ہی شدید خطرے میں ہیں۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ غذائیت کی کمی کے چند کیسز میں کمی کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ غزہ کے باسیوں کو متوازن غذا یا خوراک کی فراہمی بلا تعطل جاری ہے۔ اس پروپیگنڈے کا مقصد دنیا کی توجہ غزہ کے اصل انسانی المیے سے ہٹانا اور وہاں جاری ظالمانہ پابندیوں کو درست ثابت کرنا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس گمراہ کن بیانیے پر کان نہ دھریں اور غزہ میں فوری طور پر خوراک، صاف پانی اور طبی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے دباؤ بڑھائیں۔ بصورت دیگر، وہاں کے عوام کو مزید سنگین تباہی اور انسانی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔