LIVE
Loading Breaking News...

میانمار میں ڈرون حملہ اور ہوائی اڈے کی بندش کی تفصیلات

News Image
میانمار کے ایک اہم ہوائی اڈے پر مبینہ ڈرون حملے کے بعد فضائی آپریشن عارضی طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔ فوجی حکومت نے اس حملے کا الزام جمہوریت نواز باغیوں پر عائد کیا ہے جن کے خلاف وہ اقتدار پر قبضے کے بعد سے نبردآزما ہے۔
میانمار میں صورتحال اس وقت مزید کشیدہ ہو گئی جب ایک اہم ہوائی اڈے پر مبینہ ڈرون حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں حکام کو فوری طور پر ہوائی اڈا بند کرنے کا فیصلہ کرنا پڑا۔ ذرائع کے مطابق اس حملے کے بعد فضائی حدود میں سیکیورٹی کے انتہائی سخت اقدامات کیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی مزید ممکنہ خطرے سے نمٹا جا سکے۔ حملے کی اطلاع ملتے ہی تمام پروازوں کی آمد و رفت کو عارضی طور پر معطل کر دیا گیا ہے جس سے مسافروں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ میانمار کی فوجی حکومت نے اس ڈرون حملے کی ذمہ داری ملک میں سرگرم جمہوریت نواز باغیوں پر عائد کی ہے۔ فوجی حکام کا کہنا ہے کہ یہ حملہ ایسی عسکری اور نیم فوجی تنظیموں کی کارروائی ہے جن کے ساتھ سنہ 2021 میں ملک کا اقتدار فوج کے ہاتھ میں آنے کے بعد سے مسلسل مسلح جھڑپیں جاری ہیں۔ فوج کا ماننا ہے کہ ملک میں جاری خانہ جنگی کے دوران مخالف گروپ اب اہم تنصیبات بالخصوص ہوائی اڈوں اور مواصلاتی ذرائع کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ حکومت پر دباؤ بڑھایا جا سکے۔ یاد رہے کہ میانمار میں فروری 2021 کی فوجی بغاوت کے بعد سے ملک بھر میں شدید سیاسی اور عسکری بحران پیدا ہو چکا ہے۔ فوج کی جانب سے منتخب حکومت کو ہٹائے جانے کے خلاف ملک کے طول و عرض میں مسلح مزاحمت شروع ہوئی جو وقت کے ساتھ ساتھ مزید منظم ہوتی گئی۔ اس طویل اور خونریز تنازع کے نتیجے میں ہزاروں افراد بے گھر ہو چکے ہیں جبکہ معیشت بھی شدید بحران کا شکار ہے۔ حالیہ ڈرون حملہ اس بات کا غماز ہے کہ ملک میں سیکیورٹی کے چیلنجز بدستور برقرار ہیں اور جاری کشیدگی اب ہوائی اڈوں جیسی اہم ترین شہری تنصیبات تک پھیل چکی ہے۔