Politics
ریپبلکن مڈٹرم کنونشن، ڈیموکریٹس امریکہ کے لیے خطرہ قرار
ڈلاس میں جاری ریپبلکنز کے مڈٹرم کنونشن کے دوسرے روز مقررین نے ڈیموکریٹک پارٹی کو ملک کے لیے خطرہ قرار دیا۔ رہنماؤں نے پارٹی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے آئندہ انتخابات میں تبدیلی کی ضرورت پر زور دیا۔
امریکہ میں مڈٹرم انتخابات کے تناظر میں سیاسی سرگرمیاں اپنے عروج پر پہنچ چکی ہیں اور تمام سیاسی جماعتیں ووٹرز کو اپنے حق میں کرنے کے لیے بھرپور کوشش کر رہی ہیں۔ ڈلاس شہر میں منعقد ہونے والے ریپبلکن پارٹی کے مڈٹرم کنونشن کے دوسرے روز بھی سیاسی ماحول انتہائی گرم دکھائی دیا۔ اس موقع پر تقریب سے خطاب کرنے والے متعدد نمایاں ریپبلکن مقررین نے موجودہ حکومتی جماعت اور ڈیموکریٹس کو براہ راست ہدف تنقید بنایا اور انہیں ریاستہائے متحدہ امریکہ کے لیے ایک سنگین خطرہ قرار دیا۔
کنونشن کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھا کہ ڈیموکریٹک پارٹی کی حالیہ پالیسیاں ملک کو معاشی اور معاشرتی زوال کی طرف لے جا رہی ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملکی سلامتی، معیشت اور روایتی اقدار کو درپیش موجودہ چیلنجز کی بنیادی وجہ ڈیموکریٹس کا غلط طرزِ حکمرانی ہے۔ ریپبلکن رہنماؤں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ آنے والے مڈٹرم انتخابات میں ان پالیسیوں کے خلاف بھرپور عوامی مینڈیٹ حاصل کریں گے تاکہ ملک کو درست سمت میں گامزن کیا جا سکے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، ریپبلکن پارٹی کی جانب سے اس قسم کے جارحانہ بیانیے کا مقصد ووٹرز میں جوش و خروش پیدا کرنا اور حکومتی کارکردگی کے خلاف پائی جانے والی عوامی ناراضی کو کیش کرانا ہے۔ کنونشن کے دوران معیشت، مہنگائی، سرحدی سلامتی اور اندرونیامور کے حوالے سے بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ پارٹی رہنماؤں نے زور دیا کہ ملک کو بحرانوں سے نکالنے کے لیے قدامت پسند سوچ اور مضبوط قیادت کی ضرورت ہے جو صرف ریپبلکنز ہی فراہم کر سکتے ہیں۔
اس دو روزہ کنونشن کے اختتام پر پارٹی کی آئندہ کی انتخابی حکمت عملی کو بھی حتمی شکل دی جائے گی، جس کے تحت ملک بھر میں انتخابی ریلیوں اور جلسوں کا سلسلہ شروع ہوگا۔ ریپبلکن پارٹی کو امید ہے کہ ان کے اس جارحانہ مڈٹرم پیغام سے ووٹرز بڑی تعداد میں پولنگ بوتھ کا رخ کریں گے اور کانگریس میں ان کی پوزیشن کو مستحکم بنائیں گے۔ دوسری جانب، ڈیموکریٹک حلقوں کی طرف سے بھی ان الزامات کا کرارا جواب دینے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں، جس سے آنے والے دنوں میں سیاسی مقابلہ مزید سخت ہونے کا امکان ہے۔