LIVE
Loading Breaking News...

جنوبی لبنان میں دھماکے، اسرائیل کی جانب سے بارودی مواد کا استعمال

News Image
اسرائیلی افواج نے جنوبی لبنان میں مبینہ حزب اللہ کی سرنگوں کو تباہ کرنے کے لیے گیارہ سو ٹن سے زائد بارودی مواد استعمال کیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس کارروائی سے علاقے میں شدید دھماکے سنے گئے اور بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی۔
جنوبی لبنان کی ایک پہاڑی پر اسرائیلی افواج کی جانب سے کیے جانے والے بڑے پیمانے پر دھماکوں نے خطے میں ایک بار پھر شدید تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ بین الاقوامی میڈیا بالخصوص الجزیرہ کی رپورٹس کے مطابق، ان کارروائیوں میں مبینہ طور پر حزب اللہ کے زیر استعمال سرنگوں اور عسکری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے ان مورچوں اور سرنگوں کو مکمل طور پر مسمار کرنے کے لیے گیارہ سو ٹن سے زائد دھماکہ خیز مواد کا استعمال کیا، جس کی وجہ سے زمین لرز اٹھی اور دور دور تک دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ یہ کارروائیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب سرحد کے دونوں جانب کشیدگی عروج پر ہے اور فریقین کے درمیان وقفے وقفے سے جھڑپیں جاری ہیں۔ دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی مقدار میں بارودی مواد کا ایک ہی مقام پر استعمال خطے میں زمینی جنگ کی شدت اور عسکری حکمت عملی میں تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے۔ اس نوعیت کی تباہی سے نہ صرف عسکری تنصیبات بلکہ مقامی جغرافیے اور ماحولیات کو بھی شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ لبنان کی جانب سے اس بابت شدید ردعمل سامنے آیا ہے اور عالمی اداروں سے مطالبے کیے جا رہے ہیں کہ وہ اس طرح کی کارروائیوں کا نوٹس لیں۔ دوسری جانب، اسرائیلی عسکری حکام کا اصرار ہے کہ یہ اقدامات ان کی ملکی سلامتی اور سرحدوں کے دفاع کے لیے ناگزیر تھے تاکہ عسکری خطرات کو مستقل طور پر ختم کیا جا سکے، تاہم اس کے نتیجے میں علاقائی امن کی بحالی کی کوششیں مزید پیچیدہ ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔