LIVE
Loading Breaking News...

نئے صوبوں کے قیام پر اے پی سی بلانے کے لیے اپوزیشن کی مشاورت

News Image
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ اپوزیشن جماعتیں نئے صوبوں کے قیام، معیشت اور امن و امان جیسے اہم قومی مسائل پر کل جماعتی کانفرنس بلانے کے لیے مشاورت کر رہی ہیں۔ اس حوالے سے جے یو آئی ایف اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنماؤں کے درمیان تفصیلی ملاقاتیں بھی ہو چکی ہیں۔
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے درمیان ہونے والی حالیہ ملاقاتوں میں ملک کی سیاسی صورتحال پر گہرائی سے غور کیا گیا ہے۔ پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ اپوزیشن جماعتیں ملک کو درپیش سنگین مسائل بشمول نئے صوبوں کے قیام، امن و امان کی ابتر صورتحال، مہنگائی اور معاشی بحران کے حل کے لیے ایک بڑی کل جماعتی کانفرنس بلانے پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ قومی سطح کے ان تمام اہم معاملات پر تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لیا جائے گا تاکہ متفقہ لائحہ عمل تیار کیا جا سکے۔ تحریک تحفظ آئین پاکستان اور جمعیت علماء اسلام ف کے درمیان ہونے والی اس ملاقات میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ملک میں آئین و قانون کی بالادستی اور جمہوری اصولوں کے تحفظ کے لیے تمام اپوزیشن قوتوں کو مشترکہ جدوجہد کرنا ہوگی۔ ترجمان کے مطابق دونوں جماعتوں کے رہنماؤں نے مجوزہ کل جماعتی کانفرنس اور پی ٹی آئی کی جانب سے ستائیس ستمبر کی احتجاجی کال کے حوالے سے بھی مشاورت کی۔ اس سلسلے میں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی اور سینیٹ میں قائد حزب اختلاف راجہ ناصر نے بھی پی ٹی آئی قیادت سے ملاقات کی ہے جس میں اے پی سی کو جلد از جلد بلانے پر اتفاق کیا گیا۔ ملاقات کے دوران یہ طے پایا ہے کہ پندرہ ستمبر کو کل جماعتی کانفرنس کی تیاریوں اور پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے ایک اور اہم اجلاس منعقد کیا جائے گا، جس میں تمام سیاسی جماعتوں سے فوری رابطے کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ یہ سیاسی ہلچل اس وقت دیکھنے میں آ رہی ہے جب وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے نظام حکومت میں اصلاحات اور نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے تمام سیاسی جماعتوں کے درمیان بات چیت کی تجویز دی گئی تھی، جس کے بعد ملک بھر میں اس موضوع پر گرما گرم بحث جاری ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اپوزیشن کی جانب سے اے پی سی بلانے کا یہ اقدام موجودہ حکومت پر سیاسی دباؤ بڑھانے کی ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ آنے والے دنوں میں اس کانفرنس کے انعقاد اور اس میں طے پانے والے فیصلوں کے پاکستانی سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، بالخصوص نئے صوبوں کے قیام کا دیرینہ مطالبہ ایک بار پھر ملکی سیاست کے مرکز میں آ گیا ہے۔