Politics
وزیر اعظم اور اپوزیشن لیڈر کی ملاقات کے لیے مشاورت شروع
وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے نئے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے لیے خط بھیجے جانے کے بعد حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ملاقات کی تیاریاں شروع ہو گئی ہیں۔ اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے ایک بیان میں تصدیق کی ہے کہ دونوں دفاتر کے درمیان اس حوالے سے رابطے کا آغاز ہو چکا ہے۔
اسلام آباد: قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور وزیر اعظم پاکستان کے درمیان ایک اہم ملاقات طے کرنے کے لیے دونوں دفاتر کے مابین باضابطہ مشاورت کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ یہ پیشرفت وزیر اعظم شہباز شریف کی طرف سے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی کو نئے چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) کی تقرری کے معاملے پر لکھے گئے خط کے بعد سامنے آئی ہے۔ محمود خان اچکزئی نے اپنے ایک بیان اور سوشل میڈیا پر جاری کردہ پیغام میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وزیراعظم کے خط موصول ہونے کے بعد ملاقات کے ایجنڈے کو حتمی شکل دینے کے لیے رابطے شروع ہو چکے ہیں۔ یاد رہے کہ اس سے قبل اگست میں محمود خان اچکزئی نے بھی وزیر اعظم کو خط لکھ کر نئے چیف الیکشن کمشنر کے ساتھ ساتھ سندھ اور بلوچستان کے اراکین کی تقرری کا مطالبہ کیا تھا۔ اس تمام سیاسی صورتحال کے پس منظر میں تحریک تحفظ آئین پاکستان (ٹی ٹی اے پی) کے ترجمان نے بتایا ہے کہ سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس کے چیمبر میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اس اجلاس کی صدارت محمود خان اچکزئی نے کی جبکہ اس میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان، سیکرٹری جنرل بیرسٹر سلمان اکرم راجہ، اسد قیصر اور دیگر اہم رہنماؤں نے شرکت کی۔ اجلاس میں آئندہ کے سیاسی لائحہ عمل اور 27 ستمبر کے احتجاج کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اور رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ سیاسی اور آئینی امور پر بھرپور انداز میں بات چیت کی جائے گی۔ اس دوران سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ ملک میں جاری سیاسی تناؤ کو کم کرنے کے لیے یہ ملاقات ایک مثبت قدم ثابت ہو سکتی ہے۔ قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق نے بھی ماضی میں سیاسی ہم آہنگی اور استحکام پر زور دیتے ہوئے خواہش ظاہر کی تھی کہ وزیر اعظم کو اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کرنا چاہیے۔ واضح رہے کہ موجودہ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ اور الیکشن کمیشن کے دو اراکین کی آئینی مدت جنوری کے آخر میں ختم ہو چکی ہے، تاہم چھبیسویں آئینی ترمیم کے تحت وہ اپنے عہدوں پر اس وقت تک فرائض انجام دے رہے ہیں جب تک ان کے جانشینوں کا تقرر عمل میں نہیں آ جاتا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ہونے والی اس آئندہ ملاقات میں نئے الیکشن کمشنر کے تقرری کے معاملے پر کیا پیشرفت ہوتی ہے اور سیاسی جماعتیں کس طرح ایک متفقہ لائحہ عمل تیار کرتی ہیں۔