LIVE
Loading Breaking News...

نیویارک میں نائن الیون حملوں کی پچیسویں برسی پر خصوصی تقریب

News Image
امریکہ کے شہر نیویارک میں نائن الیون کے تباہ کن حملوں کی پچیسویں برسی کے موقع پر ایک پروقار تقریب منعقد کی گئی۔ تقریب میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی غیر حاضری اور پہلے مسلم میئر کی شرکت پر سیاسی تنازعات دیکھنے میں آئے۔
امریکہ کے شہر نیویارک میں 11 ستمبر 2001 کے تباہ کن دہشت گردانہ حملوں کی پچیسویں برسی جمعہ کے روز انتہائی عقیدت اور سوگوار ماحول میں منائی گئی۔ اس تاریخی اور دنیا کو بدل دینے والے دن کے موقع پر منعقدہ مرکزی تقریب میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین، سابق امریکی صدور اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی تاکہ اس المناک واقعے کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا جا سکے۔ گراؤنڈ زیرو پر منعقدہ اس تقریب کا آغاز صبح سویرے ہوا جسے روایتی طور پر سیاست سے بالاتر رکھا گیا تھا اور اس میں کوئی باضابطہ سیاسی تقاریر نہیں کی گئیں۔ لواحقین کی جانب سے ایک ایک کر کے ان تمام افراد کے نام پڑھے گئے جو اس دن اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے، جبکہ اہم لمحوں کی یاد میں گھنٹیاں بجائی گئیں۔ اس برسی کی تقریب میں ایک اہم پہلو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی غیر موجودگی تھی جنہوں نے نیویارک کے بجائے پینٹاگون میں جا کر اپنے احترام کا اظہار کیا۔ دوسری جانب، نائب صدر جے ڈی وینس اور امریکہ کے چاروں زندہ سابق صدور جارج ڈبلیو بش، جو اس حملے کے وقت برسرِ اقتدار تھے، کے علاوہ ڈیموکریٹس جو بائڈن، باراک اوباما اور بل کلنٹن نے لوئر مینہیٹن میں واقع گراؤنڈ زیرو کی سائٹ پر حاضری دی۔ اس تقریب میں نیویارک کے پہلے مسلم میئر زہران ممدانی کی شرکت بھی خصوصی توجہ کا مرکز رہی، جنہیں دائیں بازو کے حلقوں کی طرف سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ میئر زہران ممدانی کو دائیں بازو کے کچھ حلقوں اور نیویارک پوسٹ کی جانب سے ایک منظم مہم کے ذریعے تقریب سے دور رہنے کا کہا گیا تھا، تاہم کونسل کے اراکین اور دیگر رہنماؤں نے اس مہم کو متعصبانہ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ زہران ممدانی کو حال ہی میں اس بات پر بھی پذیرائی ملی تھی کہ انہوں نے نیویارک کے نچلے حصے میں حملوں کے بعد فضا میں موجود زہریلے مادوں کے حوالے سے ہزاروں دستاویزات منظرِ عام پر لائے تھے جن سے معلوم ہوا کہ اس وقت کے فضائی آلودگی کے اثرات کتنے خطرناک تھے۔ یاد رہے کہ 2001 کے اس روز القاعدہ کے کارندوں نے چار طیارے اغوا کیے تھے جن میں سے دو نے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے ٹاورز کو نشانہ بنایا، تیسرا پینٹاگون سے ٹکرایا جبکہ چوتھا پنسلوانیا کے قریب کھیتوں میں گر کر تباہ ہو گیا۔ وفاقی اداروں کے مطابق حملوں کے بعد سے اب تک نو ہزار سے زائد افراد نائن الیون سے جڑی مختلف بیماریوں کے باعث لقمہ اجل بن چکے ہیں، اور اس دن کے زخم آج بھی امریکی معاشرے میں تازہ ہیں۔ سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کے درمیان منعقدہ اس برسی میں عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور یادگار پر پھول نچھاور کر کے شہداء کو یاد کیا۔