World
ٹرمپ کا سعودی ولی عہد کی حوثیوں پر حملے کی درخواست پر انکار
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی ولی عہد کی جانب سے حوثیوں کے خلاف امریکی فوجی حملے کی درخواست کو مسترد کر دیا۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب خطے میں بحیرہ احمر کے راستے بین الاقوامی بحری جہازوں کو سیکیورٹی خطرات لاحق تھے۔
غیر ملکی خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق، سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ولی عہد کی جانب سے یمن کے حوثی باغیوں کے خلاف براہ راست فوجی کارروائی اور حملے کی درخواست کو مسترد کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق سعودی قیادت چاہتی تھی کہ امریکہ خطے میں ایرانی حمایت یافتہ حوثی گروپ کے خلاف بھرپور فوجی طاقت کا استعمال کرے تاکہ بحیرہ احمر میں بڑھتے ہوئے سیکیورٹی خدشات اور تجارتی جہازوں پر حملوں کو روکا جا سکے۔
حالیہ ہفتوں میں بحیرہ احمر کے اہم بحری راستے پر بین الاقوامی جہاز رانی کو شدید خطرات کا سامنا رہا ہے، جس کے بعد مشرق وسطیٰ کی سلامتی کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو چکی ہے۔ اطلاعات کے مطابق سعودی عرب نے خطے میں امن اور تجارتی راہداریوں کے تحفظ کے لیے امریکی عسکری تعاون اور فضائی حملوں میں مدد طلب کی تھی، تاہم امریکی انتظامیہ بالخصوص ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاملے پر احتیاط سے کام لیتے ہوئے فوجی مداخلت کرنے سے گریز کیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے اس درخواست کا مسترد کیا جانا خطے میں جنگ کے دائرہ کار کو پھیلانے سے گریز کرنے کی حکمت عملی کا حصہ ہو سکتا ہے۔ اگرچہ امریکہ نے ماضی میں سعودی عرب کو دفاعی اور انٹیلی جنس تعاون فراہم کیا ہے، لیکن حوثیوں کے گڑھ پر براہ راست میزائل یا فضائی حملے کرنے کے حوالے سے واشنگٹن میں گومگو کی کیفیت پائی جاتی ہے، کیونکہ اس سے ایک بڑی علاقائی جنگ چھڑنے کا خطرہ موجود ہے۔
اس پیش رفت کے بعد بین الاقوامی سفارتی حلقوں میں چہ مگوئیاں شروع ہو چکی ہیں کہ خلیجی ممالک اور واشنگٹن کے درمیان سلامتی کے امور پر حکمت عملی میں کچھ اختلافات پائے جاتے ہیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں خطے کے امن اور بحیرہ احمر کی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے سفارتی سطح پر مزید رابطے کیے جائیں گے تاکہ تجارتی راستوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔