LIVE
Loading Breaking News...

ایران، سعودی عرب اور پاکستان کا خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال

News Image
ایرانی حکام نے سعودی عرب اور پاکستان کے اعلیٰ عہداروں کے ساتھ ٹیلیفون پر رابطہ کیا ہے۔ اس گفتگو کا بنیادی مقصد خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنا اور سفارتی تعاون کو فروغ دینا تھا۔
ایرانی وزیر خارجہ اور دیگر اعلیٰ حکام نے حالیہ دنوں میں خطے کی ابتر ہوتی ہوئی صورتحال اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں سعودی عرب اور پاکستان کے اعلیٰ حکام کے ساتھ اہم ٹیلیفونک رابطے کیے ہیں۔ ان رابطوں کا بنیادی مقصد مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات خصوصاً بحیرہ احمر اور سعودی عرب پر ہونے والے حملوں کے پس منظر میں پیدا ہونے والے بحران کا سفارتی حل تلاش کرنا ہے۔ ایرانی قیادت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ تمام فریقین کو خطے میں امن و استحکام کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے اور کسی بھی قسم کی غلط فہمی کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ دوسری جانب پاکستان کے عسکری اور سیاسی حلقوں کی جانب سے بھی اس بات کا اعادہ کیا گیا ہے کہ پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے اور کشیدگی میں کمی کے لیے تمام ممکنہ سفارتی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔ سعودی عرب اور ایران کے درمیان تعلقات میں بہتری کے حالیہ عمل کو آگے بڑھانے کے لیے بھی ان ٹیلیفونک رابطوں کو انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔ پاکستان اور ایران کے درمیان ہونے والی گفتگو میں باہمی دلچسپی کے امور کے ساتھ ساتھ سکیورٹی اور دفاعی تعاون پر بھی روشنی ڈالی گئی تاکہ خطے کو کسی بڑے بحران سے بچایا جا سکے۔ بین الاقوامی مبصرین کے مطابق، خطے میں حوثی تحریک اور سعودی عرب کے درمیان تنازع کے شدت اختیار کرنے کے بعد سفارتی سطح پر سرگرمیوں میں تیزی آئی ہے۔ ایران کا پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ بیک وقت رابطہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ تہران اپنے ہمسایہ اور خطے کے اہمم ممالک کے ساتھ رابطے بحال رکھتے ہوئے کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچنا چاہتا ہے۔ تمام فریقین نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے سفارتی ذرائع کو ہی ترجیح دی جانی چاہیے تاکہ عوام کو مزید مشکلات سے بچایا جا سکے۔