World
مشرق وسطیٰ کی کشیدگی: پاکستان کا سفارت کاری بحال کرنے کا مطالبہ
پاکستان نے مشرق وسطیٰ کے کشیدہ حالات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری طور پر سفارت کاری کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔ حکومت پاکستان کا کہنا ہے کہ خطے میں دیرپا امن کے لیے بات چیت اور سفارتی کوششیں ناگزیر ہیں۔
اسلام آباد: پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور بحران کے پیش نظر ایک بار پھر زور دیا ہے کہ خطے میں امن اور استحکام کے قیام کے لیے سفارت کاری کو فوری طور پر بحال کیا جائے۔ پاکستانی دفتر خارجہ اور اعلیٰ حکام کی جانب سے جاری کردہ بیانات میں اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ خطے کے موجودہ حالات نہ صرف مقامی آبادی کے لیے تباہ کن ہیں بلکہ اس کے عالمی معیشت اور سلامتی پر بھی انتہائی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ حکومت پاکستان کا مؤقف ہے کہ جنگ اور محاذ آرائی کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہے بلکہ اس سے تباہی میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔
حالیہ برسوں اور مہینوں میں مشرق وسطیٰ کے اندر پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال کے بعد پاکستان نے ہمیشہ پرامن حل کی وکالت کی ہے۔ اسلام آباد کا اصرار رہا ہے کہ بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسائل کا حل تلاش کیا جائے۔ پاکستان کے مطابق، تمام فریقین کو انتہائی تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے تاکہ خطے کو ایک بڑی جنگ سے بچایا جا سکے اور معصوم شہریوں کی جانیں محفوظ رکھی جا سکیں۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان خطے کے برادر ممالک اور عالمی برادری کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ کشیدگی کو کم کرنے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل تیار کیا جا سکے۔
مشرق وسطیٰ میں سفارت کاری کی بحالی کا یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر بھی اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ جنگ بندی کے لیے سنجیدہ کوششیں کی جائیں۔ پاکستان نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ عالمی امن کے فروغ اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ پاکستانی عوام اور سیاسی و عسکری قیادت کا ایک ہی پیج پر یہ ماننا ہے کہ مشرق وسطیٰ کا امن پوری دنیا کے امن کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے، اور اس مقصد کے حصول کے لیے مذاکرات کی میز پر واپس آنا وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے۔