World
نائن الیون کی 25 ویں برسی: متاثرین کی یاد اور تاریخی پس منظر
امریکہ اور دنیا بھر میں نائن الیون کے دہشت گرد حملوں کی پچیسویں برسی منائی جا رہی ہے۔ ان المناک حملوں کے اثرات اور ان کی سیاہ میراث کا سلسلہ ڈھائی دہائیاں گزرنے کے باوجود جاری ہے۔
امریکہ اور دنیا بھر میں نائن الیون کے دلخراش دہشت گرد حملوں کو پچیس برس بیت چکے ہیں۔ اس موقع پر نیویارک سمیت مختلف مقامات پر خصوصی تقریبات کا انعقاد کیا جا رہا ہے جہاں ان لوگوں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا جنہوں نے ان حملوں میں اپنی جانیں گنوائیں۔ لواحقین کا کہنا ہے کہ وقت گزرنے کے باوجود پیاروں کی یادیں اور غم آج بھی تازہ ہیں اور وہ ہر سال اس دن اپنے پیاروں کو یاد کرتے ہیں۔ پچیس سال کا یہ طویل عرصہ گزر جانے کے بعد بھی ان حملوں کے اثرات امریکی معاشرے، سیاست اور دنیا بھر کی خارجہ پالیسی پر واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ نئے سروگز کے مطابق، نائن الیون کے یہ واقعات گزشتہ پچیس برسوں کے دوران رونما ہونے والے دیگر بڑے عالمی اور ملکی واقعات پر آج بھی حاوی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان حملوں نے عالمی سکیورٹی کے تصور کو ہمیشہ کے لیے بدل ڈالا اور اس کے نتیجے میں شروع ہونے والی جنگوں اور پالیسیوں کے اثرات اب تک دنیا بھگت رہی ہے۔ تاریخی اعتبار سے اس دن کو ایک ایسے موڑ کے طور پر دیکھا جاتا ہے جس نے اکیسویں صدی کے پہلے نصف حصے کی سمت کا تعین کیا۔ نیویارک کے گراؤنڈ زیرو اور دیگر یادگاروں پر ہونے والی تقریبات میں سیاسی رہنماؤں، متاثرہ خاندانوں کے افراد اور عام شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اس موقع پر شہداء کے نام پڑھے گئے اور دو منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔ مقررین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں متاثر ہونے والے افراد اور ان کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا، جبکہ دنیا بھر میں امن کے قیام کے لیے کوششیں جاری رکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔