World
ٹرمپ کا نائن الیون کی برسی پر خطاب اور ایران کے خلاف جنگ کا دفاع
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نائن الیون کی برسی کے موقع پر پینٹاگون میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے خلاف اپنی فوجی کارروائیوں کا بھرپور دفاع کیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ امریکہ اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ایران کو کڑا جواب دینے سے دریغ نہیں کرے گا۔
واشنگٹن: امریکی تاریخ کے سیاہ ترین دن یعنی نائن الیون کے حملوں کی برسی کے موقع پر پینٹاگون میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جہاں شہداء کے لواحقین اور اعلیٰ عسکری حکام نے شرکت کی۔ اس موقع پر سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اپنے دورِ حکومت کے دوران ایران کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات اور جاری کشیدگی کا بھرپور دفاع کیا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ امریکہ نے ہمیشہ دہشت گردی اور بیرونی خطرات کے خلاف فیصلہ کن قدم اٹھایا ہے اور وہ اپنے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام جاری رکھے گا۔
تقریب کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ پاک ایران یا دیگر علاقائی کشیدگی کا ذکر کرتے ہوئے تہران کو سخت الفاظ میں تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر ایران کی جانب سے کوئی بھی جارحانہ اقدام اٹھایا گیا تو واشنگٹن کی طرف سے اس کا انتہائی سخت اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔ ٹرمپ کے اس بیان کو بین الاقوامی میڈیا اور سیاسی تجزیہ کاروں کی طرف سے ایک اہم اور سخت پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس سے خطے میں پائی جانے والی کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب، دنیا بھر کے مبصرین کا ماننا ہے کہ نائن الیون جیسی تاریخی برسی کے موقع پر اس نوعیت کے سیاسی اور جارحانہ بیانات دینا عالمی امن کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ایک طرف جہاں متاثرہ خاندان اپنے پیاروں کی یاد میں سوگوار تھے، وہیں دوسری طرف سیاسی شخصیات کی جانب سے خطے میں جنگی جنون اور دھمکیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے بیانات سے مشرق وسطیٰ اور خطے میں امن کی بحالی کی کوششوں کو شدید دھکا لگ سکتا ہے۔