LIVE
Loading Breaking News...

شی جن پنگ اور ڈونلڈ ٹرمپ سربراہی اجلاس، مصنوعی ذہانت پر تشویش

News Image
امریکی اور چینی صدور کی ممکنہ ملاقات سے قبل دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت (AI) کے ممکنہ خطرناک نتائج پر خدشات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین اور ٹیکنالوجی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کو قابو میں رکھنے کے لیے فوری بین الاقوامی اقدامات کی ضرورت ہے۔
عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کے شعبے میں اس وقت شدید ہلچل مچی ہوئی ہے کیونکہ دنیا کے دو سب سے بڑے رہنماؤں، چین کے صدر شی جن پنگ اور امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ہونے والی متوقع ملاقات سے قبل مصنوعی ذہانت (AI) کے خطرات کے حوالے سے بحث عروج پر پہنچ گئی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ جدید ترین سسٹمز اور اے آئی ماڈلز کی تیز رفتار ترقی انسانیت کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتی ہے، جس پر اب سیاسی اور تکنیکی دونوں سطحوں پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اوپن اے آئی کے سربراہ سیم ألٹمین کی جانب سے بھی حالیہ بیانات میں اس ٹیکنالوجی کی رفتار کو کچھ سست کرنے پر زور دیا گیا ہے تاکہ اس کے ممکنہ منفی اثرات کا بروقت اندازہ لگایا جا سکے۔ متعدد ناقدین اور سائنسدان اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ اگر مصنوعی ذہانت کے استعمال کو باقاعدہ ضوابط کے تحت نہ لایا گیا تو یہ آنے والے وقت میں انسانی قابو سے باہر ہو سکتی ہے، جسے بعض مبصرین قیامت خیز ٹیکنالوجی بھی قرار دے رہے ہیں۔ اس پس منظر میں، عالمی رہنماؤں کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں ٹیکنالوجی کے ضابطہ کار اور سکیورٹی کے امور کو مرکزی اہمیت حاصل ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔