World
باب المندب پر حوثیوں کا قبضہ، عالمی تجارت اور تیل کی قیمتیں متاثر ہونے کا خدشہ
یمنی حوثیوں نے باب المندب اسٹریٹ کے قریب اہم علاقہ پر قبضہ کر لیا ہے جو تیل اور عالمی ترسیل کا اہم دروازہ ہے۔ اس پیش قدمی سے عالمی تجارت اور تیل کی قیمتوں پر شدید اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
یمن کے حوثی باغیوں نے بحیرہ احمر کے انتہائی اہم بحری راستے باب المندب اسٹریٹ کے قریب واقع علاقوں پر اپنا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ اس پیش قدمی نے بین الاقوامی معاشی حلقوں میں شدید تشویش کی لہر دوڑا دی ہے کیونکہ یہ مقام عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ دنیا بھر کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے تیل اور دیگر اشیائے خوردونوش کی درآمد و برآمد کے لیے استفادہ کرتا ہے۔
ماہرین اقتصادیات اور جہاز رانی کے امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اسٹریٹ آف باب المندب کے قریب سکیورٹی کی صورتحال مزید خراب ہوتی ہے تو عالمی سطح پر شپنگ کمپنیوں کو اپنے راستے بدلنے پڑ سکتے ہیں۔ راستے تبدیل ہونے سے نہ صرف سفر کا دورانیہ طویل ہو جائے گا بلکہ تجارتی اخراجات میں بھی کئی گنا اضافہ ہوگا، جس کا بالواسطہ اثر عام صارفین اور عالمی منڈیوں پر پڑے گا۔
تیل کی عالمی منڈی پر اس پیش قدمی کے فوری اثرات دیکھے جا سکتے ہیں۔ دنیا کی بڑی توانائی کمپنیاں اور تجارتی ادارے اس خطے میں ہونے والی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔ تیل کی ترسیل میں رکاوٹ آنے کی صورت میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہونے کا اندیشہ ہے، جس سے دنیا بھر میں مہنگائی کی ایک نئی لہر آ سکتی ہے۔
بین الاقوامی برادری اور علاقائی طاقتیں اس تنازع کو حل کرنے اور تجارتی راستوں کو محفوظ بنانے کے لیے سفارتی سطح پر سرگرم ہو رہی ہیں۔ اقوام متحدہ اور دیگر تنظیموں کی جانب سے بھی امن و امان کی بحالی اور سمندری سلامتی کو یقینی بنانے کے مطالبات کیے جا رہے ہیں تاکہ عالمی معیشت کو کسی بڑے بحران سے بچایا جا سکے اور سپلائی کے تمام ذرائع بلا تعطل جاری رہیں۔