AI
برطانیہ کا خطرناک اے آئی کے لیے کل سوئچ مسترد کرنے کا فیصلہ
برطانوی حکومت کے کابینہ آفس نے واضح کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کو آسانی سے بند نہیں کیا جا سکتا۔ حکام کا ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی کے حفاظتی انتظامات کے لیے دوسرے موثر لائحہ عمل کی ضرورت ہے۔
برطانوی حکومت کے کابینہ آفس نے مصنوعی ذہانت کے حوالے سے ایک اہم بیان میں اس تجویز کو مسترد کر دیا ہے جس کے تحت کسی بھی خطرناک صورتحال میں اے آئی سسٹمز کے لیے ایک مرکزی ’کل سوئچ‘ نصب کرنے کا کہا جا رہا تھا۔ حکام کا مؤقف ہے کہ جدید ڈیجیٹل اور مصنوعی ذہانت کے سسٹمز اس قدر پیچیدہ ہو چکے ہیں کہ انہیں محض ایک بٹن دبا کر یکدم بند یا غیر فعال نہیں کیا جا سکتا۔ یہ شعبہ اب معیشت اور معاشرے میں گہرائی تک سرایت کر چکا ہے، اس لیے اس کی نگرانی اور حفاظت کے لیے دوسرے روایتی اور تکنیکی حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ کابینہ آفس، جو کہ ملک میں مصنوعی ذہانت کی حفاظت اور ضابطہ کار کی قیادت کرتا ہے، کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی پر مکمل قابو پانے کے لیے عملی اقدامات زیادہ ضروری ہیں۔ ماہرین کا یہ بھی مانना ہے کہ اگرچہ مصنوعی ذہانت کے خطرات سے انکار نہیں کیا جا سکتا، تاہم اس طرح کے ہنگامی سوئچز کا نفاذ تکنیکی لحاظ سے انتہائی مشکل اور ناممکن کے برابر ہے۔ اس فیصلے کے بعد برطانیہ میں اے آئی کی حفاظت کے نئے اور زیادہ حقیقت پسندانہ اصول بنانے پر زور دیا جا رہا ہے، تاکہ ٹیکنالوجی کے فوائد بھی سمیٹے جا سکیں اور کسی بھی ممکنہ بڑے خطرے سے بروقت نمٹا جا سکے۔