Technology
راک اسٹار گیمز اور برطرف ملازمین کا تنازعہ اور واچ لسٹ کا دعویٰ
راک اسٹار گیمز نے ملازمین کو یونین سازی پر برطرف کرنے کے دعوے کی تردید کر دی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ ملازمین کو خفیہ معلومات آن لائن شیئر کرنے پر نکالا گیا۔
مشہور ویڈیو گیم گرینڈ تھیفت آٹو (GTA) بنانے والی کمپنی راک اسٹار گیمز کے ایک برطرف ملازم نے دعویٰ کیا ہے کہ کمپنی کے اندرونی عملے کو ایک خصوصی واچ لسٹ میں رکھا گیا ہے۔ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب کمپنی کی جانب سے کچھ ملازمین کی برطرفی پر شدید ردعمل ظاہر کیا گیا۔ اس سے قبل یہ خبریں گردش کر رہی تھیں کہ ملازمین کو مبینہ طور پر یونین سازی یا مزدور یونین بنانے کی کوششوں کی وجہ سے نوکری سے نکالا گیا ہے، جس سے گیمنگ انڈسٹری میں ہلچل مچ گئی تھی۔ دوسری طرف راک اسٹار گیمز نے ان تمام الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ کمپنی کے ترجمان کا موقف ہے کہ کسی بھی کارکن کو یونین سازی کی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی پاداش میں برطرف نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملازمین کی برطرفی کی اصل وجہ کمپنی کی انتہائی خفیہ معلومات کو سوشل میڈیا اور دیگر آن لائن پلیٹ فارمز پر بلااجازت شیئر کرنا تھی۔ کمپنی کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام کاروباری رازوں کے تحفظ اور پرائیویسی پالیسی کو برقرار رکھنے کے لیے اٹھایا گیا تھا۔ اس تنازعے کے بعد گیمنگ انڈسٹری میں ورکرز کے حقوق اور کارپوریٹ پالیسیوں کے درمیان توازن پر ایک نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔ مختلف لیبر گروپس اور گیمرز اس معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ آیا ملازمین کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے یا کمپنی نے اپنے قوانین کے تحت درست کارروائی کی ہے۔