Business
ر라이언 ایئر کے سربراہ اولیری کا متنازع بیان کا دفاع
ر라이언 ایئر کے چیف ایگزیکٹو مائیکل اولیری نے اپنے اس بیان کا دفاع کیا ہے جس میں انہوں نے یورپ کی دیگر ایئرلائنز کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مسافر اس وقت یورپ میں مہنگے کرایوں کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں۔
ر라이언 ایئر (Ryanair) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر مائیکل اولیری نے اپنے حالیہ متنازع بیان کا دفاع کیا ہے جس میں انہوں نے یورپ کی دیگر فضائی کمپنیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ مائیکل اولیری اپنے جارحانہ انداز اور بے باک بیانات کے لیے جانے جاتے ہیں اور اس بار بھی انہوں نے فضائی سفر کے بڑھتے ہوئے کرایوں کے معاملے پر کھل کر بات کی۔ انہوں نے موقف اختیار کیا کہ عام مسافر اس وقت یورپ بھر میں انتہائی مہنگے فضائی کرایوں کی وجہ سے سفر کرنے کی سکت نہیں رکھتے۔
اپنے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے اولیری کا کہنا تھا کہ ان کا مقصد مسافروں کو درپیش مالی مشکلات کو اجاگر کرنا تھا کیونکہ مہنگے کرایوں کی وجہ سے عام آدمی کے لیے فضائی سفر خواب بنتا جا رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کم لاگت والی ایئرلائنز ہی وہ واحد ذریعہ ہیں جو عام مسافروں کو سستے سفر کی سہولت فراہم کر رہی ہیں جبکہ روایتی اور بڑی ایئرلائنز مسافروں سے اضافی اور بھاری فیسیں وصول کر رہی ہیں۔
فضائی صنعت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مائیکل اولیری کا یہ انداز اگرچہ متنازع ضرور ہے لیکن اس سے یورپ میں ایئرلائنز کے بڑھते ہوئے کرایوں اور مسافروں کے حقوق پر ایک بار پھر اہم بحث چھڑ گئی ہے۔ مسافروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے بھی کرایوں میں شفافیت کا مطالبہ کیا ہے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔
ر라이언 ایئر یورپ کی بڑی کم لاگت ایئرلائنز میں شمار ہوتی ہے اور اس کے سربراہ کی جانب سے اس طرح کے بیانات اکثر میڈیا کی توجہ کا مرکز بنتے ہیں۔ اس تازہ واقعے کے بعد یورپی ایوی ایشن مارکیٹ میں مسابقت اور کرایوں کی پالیسیوں کے حوالے سے بحث میں تیزی آ گئی ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ دیگر فضائی کمپنیاں بھی اس پر اپنا ردعمل ظاہر کریں گی۔