World
برطانوی پولیس کا مظاہروں میں چہرہ ڈھانپنے پر پابندی اور کریک ڈاؤن کا اعلان
ہیمپشائر اور آئل آف وائٹ کانسٹیبلری نے مظاہروں کے دوران چہرہ چھپانے والے افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا اعلان کیا ہے۔ پولیس اس مقصد کے لیے کرائم اینڈ پولیسنگ ایکٹ کے تحت حاصل خصوصی اختیارات کا استعمال کرے گی۔
برطانیہ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے احتجاجی مظاہروں کے دوران حفاظتی تدابیر یا دیگر مقاصد کے تحت چہرہ چھپانے والے افراد کے خلاف سخت اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہیمپشائر اور آئل آف وائٹ کانسٹیبلری (Hampshire and Isle of Wight Constabulary) کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ قانون شکنی کرنے والوں اور مظاہروں کی آڑ میں امن عامہ خراب کرنے والوں کے خلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد پبلک آرڈر کو برقرار رکھنا اور کسی بھی ممکنہ ہنگامہ آرائی یا غیر قانونی سرگرمی کی بروقت روک تھام کرنا ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے تحت کرائم اینڈ پولیسنگ ایکٹ (Crime and Policing Act) کے اندرونی اور اضافی اختیارات کو مکمل طور پر بروئے کار لایا جائے گا۔ ان قوانین کے نفاذ سے پولیس افسران کو یہ اختیار مل جاتا ہے کہ وہ مظاہروں کے دوران جان بوجھ کر اپنا چہرہ یا شناخت چھپانے والے افراد سے بازپرس کریں اور ضرورت پڑنے پر انہیں فوری حراست میں لیں۔ حکام کے مطابق ماسک یا نقاب کے ذریعے اپنی شناخت مخفی رکھنے سے پُرتشدد کارروائیوں میں ملوث ملزمان کی شناخت میں مشکلات پیش آتی ہیں، جنہیں اب سختی سے روکا جائے گا۔
حالیہ برسوں کے دوران ملک کے مختلف حصوں میں ہونے والے مظاہروں کے دوران بدنظمی اور املاک کو نقصان پہنچانے کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جنہیں کنٹرول کرنے کے لیے پولیس اب زیادہ جارحانہ حکمت عملی اپنا رہی ہے۔ سول سوسائٹی کے کچھ حلقوں کی جانب سے اس پر مخلوط ردعمل سامنے آیا ہے جہاں ایک طرف عوامی سلامتی کی حمایت کی جا رہی ہے تو دوسری جانب پرامن احتجاج کے حق پر قدغن لگنے کے خدشات کا بھی اظہار کیا جا رہا ہے۔ تاہم، پولیس انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات قانون کے دائرے میں رہ کر امن و امان کی بحالی اور عام شہریوں کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہیں۔