World
ناائن الیون کے پچیس سال: کیرین رولینڈ کی یادیں اور اثرات
برطانیہ کے شہر ریڈنگ سے تعلق رکھنے والی کیرین رولینڈ نے نائن الیون کے المناک واقعے کے پچیس سال بعد اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی زندگی واضح طور پر اس واقعے سے پہلے اور بعد کے حصوں میں تقسیم ہو چکی ہے۔
برطانیہ کے شہر ریڈنگ سے تعلق رکھنے والی کیرین رولینڈ نے نیویارک میں پیش آنے والے ہولناک نائن الیون کے واقعے کو یاد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی زندگی کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے، ایک حصہ نائن الیون سے پہلے کا ہے اور دوسرا حصہ اس کے بعد کا ہے۔ کیرین رولینڈ ان افراد میں شامل ہیں جنہوں نے ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر دوسرے طیارے کو ٹکراتے ہوئے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا، اور اس منظر کی ہولناکی آج بھی ان کے ذہن پر نقش ہے۔
پچیس سال گزرنے کے باوجود اس واقعے کے اثرات کیرین رولینڈ کے دل و دماغ پر تازہ ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس ایک حادثے نے نہ صرف عالمی سیاست اور سکیورٹی کے منظر نامے کو یکسر تبدیل کر دیا بلکہ عام انسانوں کے نفسیاتی اور روزمرہ معمولات کو بھی ہمیشہ کے لیے متاثر کیا۔ اس دن کے بعد سے دنیا میں سفر کرنے کے طریقے، سکیورٹی کے سخت نفاذ اور بین الاقوامی تعلقات کی نوعیت یکسر بدل گئی۔
کیرین رولینڈ کا یہ بیان اس بات کی یاد دہانی ہے کہ تاریخی سانحات کس طرح انفرادی اور اجتماعی زندگیوں کو تاحیات متاثر کرتے ہیں۔ نائن الیون کے واقعے کو اب پچیس سال بیت چکے ہیں، لیکن دنیا بھر میں اس دن کے اثرات اب بھی محسوس کیے جاتے ہیں۔ متاثرین اور چشم دید گواہوں کے لیے وہ دن وقت کے دھارے میں کہیں رک گیا ہے اور اس کے بعد کی دنیا ایک بالکل نئی حقیقت کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔