LIVE
Loading Breaking News...

حوثی کا بحیرہ احمر کو محفوظ قرار دینے کا اعلان، سعودی جہاز مستثنیٰ

News Image
یمنی حوثی تحریک کے ترجمان یحییٰ سریع نے تصدیق کی ہے کہ بحیرہ احمر میں تجارتی بحری جہازوں کی آمدورفت اب مکمل طور پر محفوظ ہے۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا ہے کہ یہ چھوٹ سعودی عرب کے بحری جہازوں پر لاگو نہیں ہوگی۔
یمن کے حوثی گروپ نے بحیرہ احمر میں بین الاقوامی بحری جہاز رانی کے حوالے سے ایک اہم اور نیا بیان جاری کیا ہے۔ حوثی تحریک کے ترجمان یحییٰ سریع کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ بحیرہ احمر میں تمام تجارتی اور بین الاقوامی بحری جہازوں کی نقل و حمل اب مکمل طور پر محفوظ ہے۔ اس اعلان کو عالمی تجارت اور سمندری راستوں کی سیکیورٹی کے تناظر میں ایک بڑی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری کشیدگی میں کچھ کمی آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔ تاہم، حوثی ترجمان نے اپنے اس بیان میں ایک اہم استثناء بھی واضح کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بحیرہ احمر اور اس سے ملحقہ سمندری گزرگاہیں دنیا بھر کے جہازوں کے لیے تو محفوظ قرار پاتی ہیں، لیکن اس پالیسی میں سعودی عرب کے بحری جہاز شامل نہیں ہوں گے۔ سعودی بحری جہازوں کے حوالے سے حوثی فورسز کا موقف بدستور سخت ہے، جس کی وجہ خطے میں سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان گزشتہ کئی سالوں سے جاری سیاسی اور عسکری محاذ آرائی ہے۔ اس اعلان کے بعد عالمی سطح پر بحری کمپنیوں اور تجارتی حلقوں کی طرف سے مخلوط ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگرچہ عمومی طور پر بحیرہ احمر میں جہاز رانی کا محفوظ ہونا عالمی سپلائی چین کے لیے ایک خوش آئند خبر ہے، لیکن سعودی جہازوں کے لیے پابندی کا برقرار رہنا اس خطے میں جاری کشیدگی کے تاحال مکمل طور پر ختم نہ ہونے کی عکاسی کرتا ہے۔ عالمی طاقتیں اور بین الاقوامی ادارے اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ خطے میں امن اور تجارت کی بحالی کو یقینی بنایا جا سکےـ